بیت بازی — Page 50
50 50 ۱۰ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ بحر حکمت وہ ہے جب اس کی یاد آتی کلام تمام عشق حق ہے یاد خدا کوئی چیز کیونکر ہو ہے جام ساری خلق جاتی ہے سراسر خطا ہے ویدوں کا بات جب ہو؛ کہ میرے پاس آویں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں بر خلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو! اگر کچھ ہوش ہے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ جزا نقش جمایا ہم نے بچا آگ سے؛ اور بچا آب اسی کے اثر ނ نه اسبار ۱۷ برس گذرے ہیں چار سو کے قریب یہ ہے کو اک کرامت عجیب IA ۱۹ : بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں بلا ريب توحیی و قدوس ہے تیرے بن ہر اک راہ سالوس ہے ۲۰ بغیر اس کے دل کی صفائی نہیں بجز اس کے غم سے رہائی نہیں ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ بشر نہیں تا اُتارے بشر خدا کا کلام اس ہے جلوہ گر بھلا بعد چولے کے؛ اے پرغرور! وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دُور باقی وہی ہمیشہ؛ غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا؛ جھوٹی ہے سب کہانی بہتر ہے اس کی طاعت ؛ طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سبــــــــان مــــن یـــانـــی با برگ و بار ہوویں؛ اک سے ہزار ہوویں یہ روز کر مبارک سبــــــــــان مــــن یـــرانـــی بادشاہی ہے تیری ارض و سما دونوں میں حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہرآں تیرا نہیں اگر دل مردہ غلاف سے حاصل ہی کیا ہے جنگ وجدال و خلاف سے باہر بشیر احمد جسے تو نے پڑھایا شفا دی آنکھ کو بینا بنایا برس میں ساتویں جب پیر آیا تو سر پر تاج قرآں کا سجایا انکو نکو کار و خردمند کرم بچانا ان کو ہر غم ނ سے ان بہر حال نہ ہوں وہ دکھ میں اور رنجوں میں پامال کر راه بدی بند ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱