بیت بازی — Page 624
624 کلام محمود ۳۶ ۳۹ ۴۰ ۴۲ ۴۳ ۴۴ سارا جہاں جنت فردوس سے آیا ہوں میں تحنہ لب آئیں؛ کہ جام بادہ ہوں ۳۷ جس کی سچائی کا ہے یہ اک نشاں جانتا ہے بات ۳۸ جس لیے یہ نام پایا تھا؟ نہیں باقی وہ کام آب تو اپنے حال پر ہیں؛ خود ہی شرمانے کے دن جلد کر توبہ کہ پچھتانا بھی پھر ہوگا فضول ہاتھ سے جاتے رہیں گے؛ جبکہ پچھتانے کے دن جاه و وکشمت نمت کا زمانہ آنے کو ہے عنقریب رہ گئے تھوڑے سے ہیں اب گالیاں کھانے کے دن جو اُن سے لڑنے آئے؛ وہ دنیا سے اُٹھ گئے باقی کوئی بچا بھی؛ تو ہے اب وہ نیم جاں جو سُنتا ہے؛ پکڑ لیتا ہے دل کو تڑپ ایسی ہے؟ میری داستاں میں جو دل میں آئے سو کہہ لو کہ اس میں بھی ہے لطف خدا کے علم میں گر ہم؛ ذلیل وخوار نہیں جگا رہے ہیں مسیحا کبھی سے دنیا کو مگر غضب ہے؛ کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں جان جائے گی؛ پہ چھوٹے گا نہ دامن تیرا پتے تلسی کے؛ میں دو چار چھالوں تو کہوں جب سے دیکھا ہے اُسے اُس کا ہی رہتا ہے خیال اور کچھ بھی مجھے؛ اب اس کے سوا یاد نہیں جانتا ہوں؛ صبر کرنا ہے ثواب اس دل نادان کو سمجھائے کون جگہ دیتے ہیں جب ہم ان کو اپنے سینہ و دل میں ہمیں وہ بیٹھنے دیتے نہیں کیوں ؛ اپنی محفل میں جب کلید معرفت ہاتھوں میں میرے آگئی تیرے انعاموں کا ؛ مجھ پر بند ہے پھر باب کیوں ۵۰ جب کہ وہ یاریگانہ؛ ہر گھڑی مجھ کو بُلائے پھر بتاؤ تو ؛ کہ آئے میرے دل کو تاب کیوں جب کہ رونا ہے ، تو پھر دل کھول کر روئیں گے ہم نہر چل سکتی ہو؟ تو بنوائیں ہم تالاب کیوں ہے نہیں زندوں میں؛ ہے وہ جسم بے جاں جانتا ہے کس پہ تیرا وار پڑتا ہے عدو کیا تجھے معلوم ہے، کس کے جگر پاروں میں ہوں؟ جاں تو تیرے در پہ قرباں ہوگئی سر کو پھر میں؛ اور ٹکراؤں کہاں جب کبھی تم کو ملے موقع؛ دُعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں ۵۶ جوش گریہ سے پھٹا جاتا ہے دل پھر محمود اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ جسے اس نور سے حصہ نہیں