بیت بازی — Page 625
625 لا ۵۸ جب نکند جان سونپ دیا؟ تجھ کو جانِ من! پاس آسکے بھلا میرے خوف و خطر کہاں جو بیکس ہوں؛ یہ ان کے یار ہو جائیں سیر ظالم اک تلوار ہو جائیں ۵۹ جلوے اُس کے نمایاں ہر ھے میں سٹر اُسی کی تھی پیدا؛ ہر کے میں جلوہ ہے ذرہ ذرہ میں دلبر کے حسن کا سارے مکاں اُسی کے ہیں؛ وہ لامکاں نہیں جو ادب کے حُسن کی بجلیاں؛ تو نگاہ حُسن کو کچھ نہ پھر؟ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ آئے روئے نیاز میں ہوں چمک رہی کف ناز میں نظر جو اُن کے واسطے؛ ادنی سا کام کرتا ہے وہ دین و دنیا کو اُس کی؛ سُدھار دیتے ہیں جو دن میں آہ بھرے؛ اُن کی یاد میں اک بار وہ رات پہلو میں اُس کے؛ گزار دیتے ہیں جو تیرے عشق میں دل کو لگے ہیں زخم ؛ اے جاں ! ادھر تو دیکھ! وہ کیسی بہار دیتے ہیں جو دل سلامت رہے تو عالم کا ذرہ ذرہ ہے مسکراتا ہزار انجم نظر ہیں آتے ؛ ہزار پیوند پیرہن میں رحمت؛ غزال لاکھوں ہیں اور بھی تو ؛ جسے نوازے خُدا کی اُسی میں سب خوبیاں ہوں پیدا ہے بات کیا آہوئے مختن میں جو چاہے وہ تو، تو وہی غیر فانی بن جائے زندگی؛ کہ جسے سب حُباب کہتے ہیں جس شان سے آپ آئے تھے مکہ میں مری جاں! اک بار اسی شان سے ربوہ میں بھی آئیں جو پھر سے ہرا کردے؟ ہر خشک پورا چمن کیلئے وہ صبا چاہتا ہوں جادو ہے میری نظروں میں تاثیر ہے میری باتوں میں میں سب دنیا کا فاتح ہوں ؛ ہاتھوں میں مگر تلوار نہیں جن معنوں میں وہ کہتا ہے ، قہار بھی ہے، جبار بھی ہے جن معنوں میں تم کہتے ہو؛ قہار نہیں، جبار نہیں جاں میری گھٹتی جاتی ہے؟ دل پارہ پارہ ہوتا ہے تم بیٹھے ہو چپ چاپ جویؤں؛ کیا تم میرے دلدار نہیں جس کی تھی چیز؛ اُسی کے ہی حوالے کردی دے کے دل خوش ہوں میں ؛ اس بات پر دلگیر نہیں جس پر عاشق ہوا ہوں میں؛ وہ اس قابل تھا خود ہی تم دیکھ لو؛ اس میں میری تقصیر نہیں جس نے ویرانوں کو، دنیا کے؛ کیا ہے آباد بہتی وہ تو نے بسائی تھی؛ وہ تُو نے بسائی تھی؛ ہے تیرا احساں جس کی گرمی سے مری رُوح ہوئی ہے پختہ تو نے وہ آگ جلائی تھی؛ ہے تیرا احساں