بیت بازی

by Other Authors

Page 622 of 871

بیت بازی — Page 622

622 "1 ۱۳ جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں ان پہ اس یار کی نظر ہی نہیں جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں جس سوز میں ہیں اس کیلئے عاشقوں کے دل اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں جامِ وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ وشاب میں جن مورکھوں کو کاموں پر اس کے یقیں نہیں پانی کو ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں غم میرے ہوش؛ سے دیں کے، ہیں جاتے رہے ایسے دنیا کے بھی بدلے؛ دیوانے کے دن جو لوگ شک کی سردیوں سے تھر تھراتے ہیں اس آفتاب سے وہ عجب دھوپ پاتے ہیں جو معجزات سنتے ہو؛ قصوں کے رنگ میں ان کو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں جب سے کہ قصے ہو گئے مقصود راہ میں آگے قدم ہے قوم کا ہردم گناہ میں ۱۲ جس کو خدائے عزوجل پر یقیں نہیں اس بدنصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں جس مئے کو پی لیا ہے ؛ وہ اس مئے سے مست ہیں سب دشمن ان کے؛ انکے مقابل میں پست ہیں جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں جب بد شعار لوگ انہیں کچھ ستاتے ہیں جب ان کے مارنے کیلئے چال چلتے ہیں جب ان سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو؛ کچھ دل میں ڈر نہیں ۱۷ جولوگ بدگمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقویٰ کی راہ سے؛ وہ بہت دُور جاتے ہیں جب دشمن اس کو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اس قدر؛ کہ وہ بس مرہی جاتے ہیں ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۸ 19 ۲۱ در عدن جان پڑ جاتی تھی جن سے؛ وہ قدم ملتے نہیں قالب بے روح سے ہیں؛ کوچہ ہائے قادیاں دور ظلمت تھا حق و باطل میں کچھ نہ تھی پہچان جب زمانہ میں جدا از یار عزیزم مدان عزتِ من رسیده نور ز آن آفتاب طلـعـت مـن