بیت بازی

by Other Authors

Page 610 of 871

بیت بازی — Page 610

610 1+1 ۱۰۳ ۱۰۴ 1+4 ۱۰۸ 109 11۔ایمان؛ جس کے ساتھ نہ ہو قوت عمل کشتی ہے؛ جس کے ساتھ کوئی بادباں نہیں اس مہر نیم روز کو دیکھیں؛ تو رکس طرح آنکھوں میں ظالموں کے اگر نُور ہی نہیں ۱۰۲ اے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں اور بچے بندے؛ مالک کے ہر حکم پہ قرباں جاتے ہیں ہر اے مرے یار یگانہ! اے مری جاں کی پناہ کر وہ دن ؛ اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن اسلام پر آفت آئی ہے؛ لیکن تو غافل بیٹھا ہے میدان میں آکر ثابت کر ؛ تو زندہ ہے، مردار نہیں ۱۰۵ آآکے؛ تیری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں آآکے تجھے سینے سے ہم اپنے لگائیں آپ آکے؛ محمد کی عمارت کو بنائیں ہم کفر کے آثار کو دنیا سے مٹائیں ۱۰۷ اے بے یاروں کے یارانگا و لطف غریب مسلماں پر اس بے چارے کا ہندوستاں میں ؛ اب کوئی بھی یار نہیں اے ہند کے مسلم ! صبر بھی کر ہمت بھی کر شکوہ بھی کر فریا دیں، گو الفاظ ہی ہیں؛ پر پھر بھی وہ بے کار نہیں آر گر جائیں ہم سجدہ میں ؛ اور سجادوں کو تر کردیں اللہ کے در پر سر چٹکیں ؛ جس سا کوئی دربار نہیں اس یار کے در پر جانا، کچھ مشکل نہیں کچھ دشوار نہیں اُس طرف جو راہیں جاتی ہیں؛ وہ ہرگز نا ہموار نہیں ارادے غیر کے ناگفتنی ہیں نگاہیں؛ زھر میں ڈوبی ہوئی ہیں اُمیدوں کو نہ مار؛ اے دشمنِ جاں! اُمیدیں ہی ہی تو مغز زندگی ہیں ان سے اسے نسبت ہی کیا؟ وہ نور ہیں، یہ نا ر ہے گر وہ ملائے ، تو ملیں ؛ ان کے قدم میری جبیں آنے کو وہ تیار تھے؛ میں خود ہی کچھ شرما گیا ان کو بیٹھاؤں میں کہاں ؛ دل میں صفائی تک نہیں ابدال کیا، اقطاب کیا؟ جبریل کیا، میکال کیا جب تو خدا کا ہوگیا؛ سب ہوگئے زیر نگیں اس پر ہوئے ظاہر محمد مصطفی حب الورای " بالا ہے نہ افلاک سے؛ گر و بیو! میری زمیں آ دوست دامن تھام لیں ہم ؛ مصطفے کا زور سے ہے اک یہی بچنے کی رہ؛ ہے اک یہی حبل المتیں اس کی آواز پہ پھر کیوں نہیں کہتے لیک طوق گردن میں نہیں؛ پاؤں میں زنجیر نہیں ان کی جادو بھری باتوں پہ مرا جاتا ہوں قتل کرتے ہیں؛ مگر ہاتھ میں شمشیر نہیں ان کے سینوں میں اُٹھا کرتے ہیں طوفاں رات دن وہ زمانہ بھر میں دیوانے ترے مشہور ہیں آج مسلم کو جو ملتی ہے ولایت والله سب ترے حصہ میں آئی تھی؛ ہے تیرا احساں ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 119 ۱۲۰ ۱۲۱ آج