بیت بازی — Page 608
608 ۵۷ اُس سے کہا ؛ میں تھک گیا ہوں آنے جانے میں بھائی ہیں میرے منتظر اندر زنانے میں ۵۸ آبیٹھ مسافر پاس ذرا؛ مجھے قصہ اہلِ درد سُنا اُن اہلِ وفا کی بات بتا؛ ہیں جن سے خفا سکانِ وطن کلام محمود ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ ۶۷ اس اک قیامت کا سماں ہوگا ؛ کہ جب آئیں گے وہ مال کی ویرانی کے؛ اور جان کے کھانے کے دن اس چمن پر جب کہ تھا دور خزاں؛ وہ دن گئے اب تو ہیں اسلام پر یارو! بہار آنے کے دن ان دنوں کیا ایسی ہی بارش ہوا کرتی تھی یاں سچ کہو! کیا تھے یہ سردی سے ٹھٹھر جانے کے دن ان بے کسوں کی ہمتیں ؟ کیوں ہو گئیں باید جن کا کہ گل جہاں میں نہ تھا کوئی پاسباں احسان اس کے ہم پہ ہیں؛ بے حد و بیکراں جو گن سکے انھیں؛ نہیں ایسی کوئی زباں سلطنت کی؛ تم کو بتاؤں وہ خوبیاں جن سے کہ اُس کی مہر و عنایات ہوں عیاں امام وقت کا لوگو! کرو نہ تم انکار! جو چھوٹے ہوتے ہیں؛ وہ پاتے اقتدار نہیں اس کی ڈوری کو بھی؛ پاتا ہوں مقام قرب میں خواب میں جیسے کوئی سمجھے؟ کہ میں بیدار ہوں اب تو جو کچھ تھا؛ حوالے کرچکا دِلدار کے وہ گئے دن؛ جبکہ کہتا تھا؟ کہ میں دلدار ہوں و یورپ و امریکه و افریقه سب دیکھ ڈالے؛ پر کہاں، وہ رنگ ہائے قادیاں اک عرصہ ہوگیا ہے؛ کہ میں سوگوار ہوں بیدار ہائے دہر سے زار و نزار ہوں افسوس ہے؛ کہ اس کو ذرا بھی خبر نہیں جس سنگ دل کے واسطے یاں مر مٹا ہوں میں ا آؤ محمود ! ذرا حال پریشاں کردیں اور اس پردے میں دُشمن کو پشیماں کردیں ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سُورج اور چاند یا تو رُخسار کو؛ یا ابڑو کو عریاں کردیں آج بے طرح چڑھی آتی ہے؛ لعل لب پر ان کو کہہ دو! کہ وہ زُلفوں کو پریشاں کردیں آدمی ہو کے تڑپتا ہوں؛ چکوروں کی طرح کبھی بے پردہ اگر وہ رُخ تاباں کردیں اک دفعہ دیکھ چکے موسی“ تو پردہ کیسا ان سے کہہ دو! کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کر دیں ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار مجھ کو تو یاد ہیں سب؛ آپ کو کیا یاد نہیں اے مسیحا! تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں بتلا کہ ان کو لائے کون ۲۸ ۶۹ 4۔۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ ایشیاء