بیت بازی

by Other Authors

Page 605 of 871

بیت بازی — Page 605

605 و 1۔ودر ثمين القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آکے وہ؛ دیں کی لڑائیاں اے آریہ سماج ! پھنسو مت عذاب میں کیوں مبتلا ہو یارو! خیال خراب میں اگر بشنوی قصه صادقان مجنبان سر خودچو مستهـزیــان اہل وقار ہوویں؛ فجر دیار ہوویں حق پر نثار ہوویں؛ مولی کے یار ہوویں اے قوم! تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں اے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں، بے ثبوت ہیں؛ اور بے فروغ ہیں اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے؛ وہ سناؤ گے یا نہیں آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اس وقت اس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں اے قوم آرید! تیرے دل کو یہ کیا ہوا تو جاگتی ہے؛ یا تیری باتیں ہیں خواب میں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک ویراں "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ اگر بھولے رہے اس سے کوئی جاں اے مرے پیارے یہی میری دعا ہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اس خونِ دل کھانے کے دن اک نشاں دکھلا ؛ کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے؛ لا جلد ٹھہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن الہی خطا کردے میری معاف کہ تجھ بن تو رب البرایا نہیں اے حب جاہ والو! یہ رہنے کی جا نہیں اس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں ان سے خدا کے کام سبھی معجزانہ ہیں یہ اس لئے کہ عاشق یاریگانہ ہیں اک بات کہہ کے؛ اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا پیج ہر اک وقت ہوتے ہیں ان کیلئے تو بس ہے خدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اس کے؛ جو مجھ پر ہیں ہر زماں اک اتفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں کرکے سوجھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں اے قوم کے سرآمده! اے حامیانِ دیں سوچو! کہ کیوں خدا تمہیں دیتا مدد نہیں بستاں سرا نہیں مقام؛ یہ ہے یہ اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے