بیت بازی — Page 585
585 تو نے مجھے خریدلیا؛ اک نگہ کے ساتھ اب تو ہی تو ہے؛ تیرے سوا میں ہوں کالعدم تیرا ہی فیض ہے؛ کوئی میری عطا نہیں این چشمه روان که بخلق خدا دهم" تحفہ خلوص لایا ہوں؛ تجھ پہ بھیجتا ہوا سلام نفرتوں کا میں نہیں نقیب، صلح و آشتی کا ہوں پیام کلام محمود تاج اقبال کا سر پر ہے مزین تیرے نصرت و فتح کا اُڑتا ہے؛ ہوا میں پرچم تیرے ہاتھوں سے ہی دجال کی ٹوٹے گی کمر شرک کے ہاتھ ترے ہاتھ سے ہی ہو دیں گے قلم تب انہیں ہوگی خبر ؛ اور کہیں گے ہیہات ہم تو کرتے رہے ہیں اپنی ہی جانوں پر یستم تیری سچائی کا دنیا میں بجے گا ڈنکا بادشاہوں کے تیرے سامنے ہوں گے سرتم تیرے اعداء جو ہیں دوزخ میں جگہ پائیں گے پر جگہ تیرے مُریدوں کی تو ہے باغ ارم تیری محبت کے جرم میں ہاں؛ تو اس کو جانیں گے عین راحت؛ جو پیں بھی ڈالے جائیں گے ہم نہ دل میں کچھ خیال لا ئینگے ہم تم نظر آتے ہو ذرہ میں؛ غائب بھی ہو تم سب خطاؤں سے بھی ہو تم پاک تائب بھی ہو تم تم ہی آقا ہو مرے؛ تم ہی میرے مالک ہو میرے ساعات غم و رنج میں نائب بھی ہو تم تم میں، ہم میں؛ مُناسبت کیسی؟ تم مفاصل ہو؛ اور جوڑ ہیں ہم تدبیر ایک پردہ ہے؛ تقدیر اصل ہے ہوں گے بس اس کے فضل سے ہی ؛ کامگار ہم تیری محبت میں میرے پیارے! مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہرگز ؛ ہر اک مصیبت اُٹھائیں گے ہم نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم Λ ۹ 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸