بیت بازی — Page 44
44 ۸۴۳ ۸۴۴ ۸۴۶ ۸۴۷ ابر رحمت خدا ہی آجاتے ہو تم یاد تو لگتا ہوں تڑپنے ورنہ کیسے؛ آرام سے سونا نہیں آتا این آدم کو لگ گیا کیا روگ آگ ہے دل میں؛ اور سر میں آگ ۸۴۵ اُن کو جنت واسطہ ہی کیا ہو لگی جن کے بام و در میں آگ برسائے ہے بھڑک اُٹھی؛ بحر و یر میں آگ کے شیدائی ہیں؛ خُوں ریزی پر مائل ہاتھوں میں جو گجر ہیں؛ تو پہلو میں کٹارے اُن سے ملنا ہے گر ؛ تو ہم سے میل وصل کی وادیوں کے موڑ ہیں ہم ۸۴۹ اُٹھ کر رہے گا پردہ کسی دن تو دیکھنا باندھیں کھڑے ہیں سامنے اُس کے؛ قطار ہم ۸۵۰ الفت الفت کہتے ہیں؛ پر دل الفت سے خالی ہے ہے دل میں کچھ اور منہ پر کچھ ؛ دنیا کی بریت نرالی ہے اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا؛ آب دن اک مجلس عیش کی ہے؛ ۸۵۱ ۸۵۲ ۸۵۳ ۸۵۶ ۸۵۷ اسلام تو پہلی باتیں تھیں اور آب صوفے کو چیں گرجا میں؟ مسجد اک شان ޏ اس سیہ رکھے رہتے ہیں رات جو ہے دیوالی ہے میں چٹائی ہوتی تھی؟ ظالم نے سرکا لی ہے۔ارے مسلم ! طبیعت تیری کیسی لاابالی ہے تیرے اعمال دنیا سے جُدا؛ فطرت نرالی ہے ۸۵۴ اگر چاہے؛ تو بندے کو خدا سے بھی بڑھا دے تو اگر چاہے؛ تو کروبی کو دوزخ میں رگرا دے تو ۸۵۵ اک گونه بیخودی مجھے دن رات چاہیے کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیمانہ چھوڑ کر روئی یہ شوق ملاقات ہے عبث اس ماہ رُو کا رنگ چڑھانا ہی چاہیئے ادھر ہم بضد ہیں؟ ادھر دل بصد ہے ہم اُس سے ہیں؛ اور وہ ہے مجبور ہم سے ان سے اسے نسبت ہی کیا ؛ وہ نور ہیں، یہ نار ہے گر وہ ملائے، تو ملیں ؛ ان کے قدم میری جبیں آنے کو وہ تیار تھے، میں خود ہی کچھ شرما گیا ان کو بٹھاؤں میں کہاں ؛ دل میں صفائی تک نہیں ابدال کیا، اقطاب کیا؟ جبریل کیا، میکال کیا جب تو خدا کا ہو گیا؛ سب ہو۔ہوگئے زیر نگیں اس پر ہوئے ظاہر محمد مصطفى حب الوری بالا ہے نہ افلاک سے؛ گر و بیو! میری زمیں آ دوست دامن تھام لیں ہم ؛ مصطفے کا زور سے ہے اک یہی بچنے کی رہ؛ ہے اک یہی حبل المتیں ΛΩΛ ۸۵۹ ۸۶۰ ۸۶۱ ۸۶۲