بیت بازی

by Other Authors

Page 43 of 871

بیت بازی — Page 43

43 ۸۲۱ ۸۲۲ ۸۲۳ ۸۲۴ ۸۲۵ ۸۲۶ ۸۲۸ ۸۳۱ اُن کو فرصت ہی صلح کی؟ گب ہے؟ وقف جنگ و جدال ہیں ایسے آ بھی جا اے ض ـو ءِ لَا لِ ایش ـاهِ مَعـ اے ش اه جــــلالـــی! آ بھی جا اے رُوح إرادے غیر کے ناگفتنی ہیں جَ آ بھی جا آ بھی جا نگا ہیں؛ زھر میں ڈوبی ہوئی ہیں اُمیدوں کو نہ مار؛ اے دُشمنِ جاں! اُمیدیں ہی تو مغز زندگی ہیں اب تک ہے؛ مرے قلب کے ہر گوشہ میں موجود اُن لفظوں کی تاثیر جو مٹتے نہیں ملتی ۸۲۷ انسان کی تدبیر یہ؛ غالب ہے ہمیشہ اللہ کی تدبیر؛ جو مٹتے نہیں مٹتی آنکھ گر مشتاق ہے؛ جلوہ بھی تو بیتاب ہے دل دھڑکتا ہے مرا؛ آنکھ اُن کی بھی پر آب ہے ۸۲۹ اسلام؛ کھانے پینے ، پہننے کے حق میں ہے پر یہ نہ ہو؛ کہ نفس کو آوارہ چھوڑ دے ۸۳۰ اک جہاں مانے گا اس دن ملتِ خیرالرسل اب تو تھوڑے رہ گئے ؛ اس دیں کے جھٹلانے کے دن اُس کی رعنائی ؛ مرے قلب حزیں سے پوچھئے کور و غلماں کی خبر؛ خُلدِ بریں سے پوچھئے استجابت کے مزے؟ عرشِ بریں سے پوچھئے سجدہ کی کیفیتیں؛ میری جبیں سے پوچھئے آسمانی بادشاہت کی خبر؛ احمد کو ہے کس کی ملکیت ہے خاتم ؛ یہ نگیں سے پوچھئے ابتدائے عشق سے دل کھو چکا ہے عقل و ہوش سر اُلفت؛ اُس نگاہ شرمگیں سے پوچھئے ۸۳۵ آسماں کی راز جوئی؛ عقل سے ممکن نہیں راز خانہ پُوچھنا ہو؟ تو مکیں سے پوچھئے اُمید میں روز ہی ہوتی تھیں پیدا؛ شکل کو لے کر مگر قلب حزیں کو صبر آج آیا؛ نہ کل آیا ایسی وفا ملے گی ہمیں اور کس جگہ آئیں گے اُن کے عشق سے؛ ہرگز نہ باز ہم ۸۳۸ اک ذره حقیر کی قیمت ہی کیا بھلا کرتے ہیں اُن کے لطف کے بل پر ہی ؛ ناز ہم ۸۳۲ ۸۳۳ ۸۳۴ ۸۳۶ ۸۳۷ ۸۳۹ اپنے دل تک سے ہے انساں بے خبر ۸۴۰ ابر رحمت پھر دعوائے ہمہ دانی تو دیکھ پر تعجب کس لئے کفر کی دنیا میں طغیانی تو دیکھ ۸۴۱ آسماں سے کیوں نہ اتریں اب ملگ گفر کی افواج طوفانی تو دیکھ ۸۴۲ اب نہ باندھیں گے؛ تو کب باندھیں گے بند کفر کا بڑھتا ہوا پانی تو دیکھ