بیت بازی — Page 42
42 ۷۹۹ ۸۰۰ ۸۰۱ ۸۰۲ ۸۰۳ ۸۰۵ ۰۶ ۸۰۷ ۸۰۸ ان اسلام اس کی وفا و مہر میں کوئی کمی نہیں تم اُس کو چھوڑ بیٹھے ہو؛ ظلم و جفا یہ ہے اُڑائیے گا نہ ہوش میرے؛ غزالی آنکھیں دیکھا دکھا کر چھری ہے چلتی دل و جگر پر ؛ نہ کیجئے باتیں چبا چبا کر ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذرا سی؛ تو صدا کرتا ہے ڈالی گئی آخر میں تلطف کی نظر مثل کافور اُڑا؛ دل میں جو تھا خوف و خطر اپنے پرائے چھوڑ کے سب ہو گئے الگ ہم بے کسوں پر آخر انہوں نے ہی کی نظر ۸۰۴ آؤ! تمہیں بتائیں محبت کے راز ہم چھیڑیں تمہاری روح کے خوابیدہ ساز ہم اسی کے دم سے مرا تھا آتھم اس نے لیکھو کا سر کیا تم اس کا دنیا میں آج پر چم ؛ ہما کے بازو پہ اڑ رہا ہے اللہ کے پیاروں کو؛ تم کیسے برا سمجھے خاک ایسی سمجھ پر ہے؛ سمجھے بھی، تو کیا سمجھے کو ہے نور ملا؛ نور خدا سے ہے ایسی یہ تنویر؛ جو مٹتے نہیں ملتی اسلام پہ آفت آئی ہے؛ لیکن تو غافل بیٹھا ہے میدان میں آکر ثابت کر ؛ تو زندہ ہے مردار نہیں ۸۰۹ آآ کے تیری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں آآ کے تجھے سینے سے ہم اپنے لگائیں امید کامیابی و شغلِ سُرود و رقص یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تری آپ ہی وہ آگئے؛ بیتاب ہو کر میرے پاس درد جب دل کا بڑھا؛ تو خود ہی درماں ہوگیا اس دل نازک کے صدقے ، جو مِری لغزش کے وقت دیکھ کر میری پریشانی پریشاں ہو گیا اک مکمل گلستاں ہے؛ وہ میرا غنچہ دہن جب ہوا وہ خندہ زن؛ میں گل بداماں ہو گیا ۱۴ آگیا غیرت میں فوراً ہی؛ مرا عیسی، نفس مرتے ہی؛ پھر زندگی کا میری ساماں ہوگیا آپ آکے محمد کی عمارت کو بنائیں ہم کفر کے آثار کو دنیا سے مٹائیں اے بے یاروں کے یار نگاہ لطف غریب مسلماں پر اس بے چارے کا ہندوستاں میں اب کوئی بھی یار نہیں ۱۷ اے ہند کے مسلم صبر بھی کر ہمت بھی کر ، شکوہ بھی کر فریا دیں، گو الفاظ ہی ہیں؛ پر پھر بھی وہ بے کار نہیں آرگر جائیں ہم سجدہ میں ؛ اور سجادوں کو تر کر دیں اللہ کے در پر سر پنگیں ؛ جس سا کوئی دربار نہیں اس یار کے در پر جانا کچھ مشکل نہیں کچھ دشوار نہیں اُس طرف جو راہیں جاتی ہیں؛ وہ ہرگز ناہموار نہیں اُسے تو موت کے سایہ میں ، مل چکی ہے حیات عشق کو عیش دوام سے کیا کام ۸۱۰ All ۸۱۲ ۸۱۵ ΔΙΑ ۸۱۹ ۸۲۰ شہید