بیت بازی

by Other Authors

Page 41 of 871

بیت بازی — Page 41

41 LAT افسردگی سے دل میرا مُرجھا رہا ہے آج اے چشمہ فیوض! نئی اک بہار دے ۷۷۸ اے خدا! کر دے منور؛ سینہ و دل کو میرے سر سے پا تگ ؛ میں بنوں مرن ترے انوار کا اُن کے ہاتھوں سے تو جام زہر بھی تریاق ہے وہ پلائیں گر ؛ تو پھر زہرہ کسے انکار کا ۷۸۰ اے حسن کے جادو! مجھے دیوانہ بنا دے اے شمع رخ! اپنا مجھے پروانہ بنا دے ۷۸۱ اُس اُلفت ناقص کی تمنا نہیں مجھ کو جو دل کو میرے؛ گوھر یکتا نہ بنا دے آہ آو غریب گم نہیں؛ غلیظ شہ جہاں سے کچھ جس سے ہوا جہاں تباہ؛ دل کا مرے مخبار تھا ۷۸۳ اُس رُخ روشن سے مٹ جاتی ہیں سب تاریکیاں عاشق سفلی کو ہے کیوں اُس میں اک تل کی تلاش آسمانی میں، عدو میرا زمینی؛ اس لئے میں فلک پر اڑ رہا ہوں؛ اُس کو ہے پل کی تلاش ۷۸۵ انصاف کی کیا؛ اس سے امید کرے کوئی بے داد کو جو ظالم آئین وفا سمجھے ہے؛ اپنی ہی سب خطا الزام اُن پر ظلم و جفا کا لگائیں کیا اَحيَيْتَ نَفْسِي بِابْتِسَامِ وَنَظَرَةٍ غَطَّتْ وَجُودِي كُلَّهُ نُعْمَاكَ ۷۸۸ اُسی کے در پہ؛ آب دھونی رما دُوں کیا ہے فیصلہ یہ میرے جی نے ۷۸۹ اُسی کا فضل ڈھانپے گا میرا ستر نہ کام آئیں گے پشمی نے کرینے ۷۸۴ ZAY 2A2 ۷۹۰ اپنا ہی سب قُصور وہ دل جو بن اُنھیں ٹوٹا ہی سمجھو ہر گھڑی تم رہے ہیں آبگینے او آنکھوں میں نُور بن کے؛ سمایا کرے کوئی میرے دل و دماغ پہ چھایا کرے کوئی اب تیر نظر کو پھینک کے تم اک گجر آئن ہاتھ میں لو یہ فولادی پنجوں کے ہیں دن ؛ اب دست جنا کو رہنے دو ایام طرب میں ساتھ رہے جب غم آیا تم بھاگ اٹھے ہے دیکھی ہوئی اپنی یہ وفا تم اپنی وفا کو رہنے دو ۷۹۲ ۷۹۳ ۷۹۴ ۷۹۵ ۷۹۶ ہے الجھ الجھ کے، میں گرتا ہوں دامن تر سے مری امیدوں کی بستی؛ یونہی اُجڑتی آنکھوں میں گھس کے وہ مرے دل میں سما گئے مسجد کو اک نگاہ میں بت خانہ کر دیا اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دشمن کا دل پلیمری کر؛ چھوڑ سودا نالۂ دل گیر کا ۷۷ اے میرے فرہاد! رکھ دے کاٹ کر کوہ و جیک تیرا فرض اولیں؛ لانا ہے جوئے شیر کا آنکھوں میں وہ ہماری رہے؛ ابتدا یہ ہے ہم اس کے دل میں بسنے لگیں؛ انتہا یہ ہے 292 ۷۹۸ ویجبل