بیت بازی

by Other Authors

Page 40 of 871

بیت بازی — Page 40

40 ۷۵۵ ایمان؛ جس کے ساتھ نہ ہو قوت عمل کشتی ہے؛ جس کے ساتھ کوئی بادباں نہیں ۷۵۶ اس مہرنیم روز کو دیکھیں؟ تو کس طرح آنکھوں میں ظالموں کے اگر نور ہی نہیں ۷۵۷ اللہ کی تم پہ رحمت اللہ کی تم پہ برکت اللہ کی مہربانی اللہ کی ہو عِنایت میری پیاری بیٹی ! میرے جگر کا ٹکڑا؛ میری کمر کی بیٹی ۷۵۸ ۷۶۳ ۷۵۹ آخر وہ ہوئے ثابت؛ پیغام ہلاکت کا جو غمزے مرے دل کو ؛ بے حد تیرے بھائے تھے ۶۰ اکسیر کا دیتے ہیں؛ آب کام وہ دنیا میں خون دل عاشق میں؛ جو تیر بجھائے تھے ے اس مرہم فردوسی میں حق ہے ہمارا بھی کچھ زخم تری خاطر؛ ہم نے بھی تو کھائے تھے ۲ ارتباط عاشق و معشوق کے سامان کر پھر میری بگڑی بنا دے؛ ہاں بنا دے آج تو اے شُعاع نور! یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر ہیں چاروں طرف؛ ان میں مجھے رسوا نہ کر ۷۶۴ اک دن جو آہ دل سے ہمارے نکل گئی غیرت کی اور عشق کی آپس میں چل گئی ۶۵ آئینہ خیال میں صُورت دکھا گئے یوں گرتے گرتے میری طبیعت سنبھل گئی احوالِ عشق پوچھتے ہو، مجھ سے کیا ندیم طبع بشر پھسلنے آئی، پھسل گئی ۷۶۷ اُسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو ستاروں کو، سورج کو اور آسماں کو ۷۶۸ ایمان مجھ کو دے دے؛ عرفان مجھ کو دے دے قُربان جاؤں تیرے؛ قرآن مجھ کو دے دے ۷۶۹ اب تو ہم ہیں؛ خزاں ہے، نالے ہیں بلبلو ! گیا باقی عنبر میں مو موسم بہار گیا مشک بار گیا آہوئے عشق رہ گیا ا اے خدا! اس کا چارہ کیا؟ جس کا غم کے بڑھتے ہی؛ غمگسار گیا ۷۷۲ 227 223 ۷۷۵ آہیں بھرتا ہوا؟ ہوا حاضر سینہ کوبان و سوگوار گیا اے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں اور بچے بندے؛ مالک کے ہر حکم پہ قرباں جاتے ہیں ۷۷۴ آبکی عَلَيكِ كُلَّ يَومٍ وَّلَيلَةٍ اَرثِيكِ يَا زَوجِی بِقَلبِ دَامِي الْغَمُ كَالصِّرْغَامِ يَأْكُلُ لَحْمَنَا لا تَجْعَلْنِي لُقْمَةَ الصِّرْغَامِ اک پاک صاف دل مجھے پروردگار دے اور اس میں عکس حُسن ازل کا اُتار دے