بیت بازی

by Other Authors

Page 39 of 871

بیت بازی — Page 39

39 ۷۳۵ ۷۳۶ اے دل! اُسی کے در پہ کس اب جا کے بیٹھ جا مارا پھروں گا ساتھ تیرے در بدر کہاں ۷۳۴ ان کو اظہار محبت سے ہے نفرت محمود آه میری یونہی بدنام ہوئی جاتی ہے احتیاج اک نقص ہے ؛ جلو ہ گری ہے اک کمال مقتضائے حسن سیر شاہد و مشہور ہے ان کو ذلیل کرنے کا؛ جس نے کیا خیال ایسا ہوا ذلیل کہ جینا ہوا محال ۷۳۷ اس قدر محنت اُٹھا کر؛ دولت راحت لگا کر تم کو پایا، جاں گنوا کر ؛ اب تو میں جانے نہ دوں گا ۷۳۸ آسماں شاہد نہیں کیا؟ میرے اقرار وفا کا اے مری جاں میرے مولیٰ میں تمھیں جانے نہ دوں گا ۷۳۹ آؤ آؤ! مان جاؤ مجھ کو سینے سے لگاؤ دل سے سب شکوے مٹاؤ ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا اک عمر گزر گئی ہے؛ روتے روتے دامانِ عمل کا داغ دھوتے دھوتے تو اب گنہ میں لطف آتا ہے نوبت یہ پہنچ گئی ہے؛ ہوتے ہوتے ۷۴۰ ۷۴۲ ۷۴۳ آتا اسی ہے اے میری اُلفت کے طالب یہ میرے دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو ؛ وہ ان باتوں میں کیسا ہے ہوتی ہے؛ راحت میسر اسی میں دیکھتے ہیں؛ رُوئے دلبر الہی! دُور ہوں ان کی بلائیں پڑیں دشمن ہی اس کی جفائیں الہی تیز ہوں ان کی نگاہیں نظر آئیں سبھی تقویٰ کی راہیں ۷۴۶ اُس کے گسار بادہ اُلفت کی رُوح پر اُس بوستان عشق و وفا کی مزار پر ۷۴۴ ۷۴۵ ۷۴۷ آه! پھر موسم بہار آیا دل میں میرے خیال یار آیا ۷۲۸ آبشاروں کی شکل میں گر کر صدمه ۷۴۹ ابر آتے تھے ؛ افتراق سہتی تھیں اور جاتے تھے دل کو ہر اک کے؛ خُوب بھاتے تھے ولا کر یاد دل میرا چٹکیوں میں ملتی تھیں ۷۵۰ اُن کی رفتار کی دلا 107 تھا اُس کے نزدیک ہو کے؛ دُور بھی تھا دل امید وار چور بھی ۷۵۲ اے چاند ! تجھ میں نورِ خدا ہے چمک رہا جس سے کہ جام حسن تیرا ہے چھلگ رہا آ اک شعاع نور کی مجھ پر بھی ڈال دے تاریکی گناہ سے باہر نکال دے اے دوست! تیرا عشق ہی کچھ خام ہو؛ تو ہو تو نہیں؛ کہ یار تیرا مہرباں نہیں ۷۵۳ ۷۵۴