بیت بازی — Page 514
514 ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ نور لائے آسماں سے ؛ خود بھی وہ اک نور تھے قومِ وحشی میں اگر پیدا ہوئے؛ کیا جائے عار نور دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہوگئی اپنی کجرائی پہ ہر دل؛ کر رہا ہے اعتبار نام بھی کذاب اُسکا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار۔پر یہ نام تا روز شمار نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خبر تو واقف نہیں اس سے اے بے ہنر نہ ہوگا کوئی ایسا مت زمیں باتیں کہے جاں آفریں پر نور دل جاتا رہا؟ اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں؟ کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار نعمتیں وہ دیں میرے مولیٰ نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی اتــمـمـت عـلـيـكـم آشکار ناز مت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیرا مت گماں کر ؛ ہے یہ سنگِ کو ہسار نوع انساں میں بدی کا شخم ہونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر؛ جو ہو اُسکا کاشتکار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گذار نسل انساں سے مدد اب مانگنا بیکار ہے اب ہماری ہے تیری درگاہ میں یارب پکار کلام طاهر نور و بشر کا فرق مٹاتی ہے؛ تیری ذات بعد از خدا بزرگ توئی قصہ کلام محمود ۱۷ نور اس کا جلوہ گر ہے؟ ہر در و دیوار میں ہے جہاں کے آئنہ میں منعکس تصویر یار نہ ملیں تو بھی دھڑکتا ہے ، ملیں تو بھی اے دل! تجھ کو کیا بیٹھنا آتا نہیں نچلا ہو کر 19 نہیں ممکن، کہ میں زندہ رہوں؛ تم سے جدا ہو کر رہوں گا تیرے قدموں میں؛ ہمیشہ خاک پا ہوکر ۱۸ ۱۹