بیت بازی

by Other Authors

Page 505 of 871

بیت بازی — Page 505

505 ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو ، یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے، کہ پھر نہ جاگے؛ تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر کیوں بڑھ گئے زمیں پر بُرے کام اس قدر کیوں ہوگئے عزیزو! یہ سب لوگ کوروکر کس طرح تیرا کروں ؟ اے ذوالمنن ! شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے؛ جس سے ہو یہ کاروبار کیوں عجب کرتے ہو؛ گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے؛ یہ بادِ بہار ودر عدن نرغہ بد باطناں سے بڑھ رہا ہے شوروشر کفر کے ہاتھوں سے پاسکتے نہیں جائے مفر کیوں نہ ہو ہراہلِ دل کا دیکھ کر زخمی جگر کلام محمود کام دیتی ہے عصا کا آیت لاتقنطوا ورنہ عصیاں نے تو میری توڑ ڈالی ہے کمر کوئی وہ دن تھا؛ کہ پاس اپنے وہ تھے بٹھاتے بلا بلا کر نکالتے ہیں مگر وہاں سے دکھتا مجھے اب بتا بتاکر کبھی جو تعریف کیجئے تو ؛ وہ کہتے ہیں یوں بگڑ بگڑ کر مزاج میرا پگاڑتے ہیں؛ بنا بنا کر، بنا بنا کر کیا سبب میں ہو گیا ہوں اس طرح زارو نزار کس مصیبت نے بنایا ہے مجھے نقش جدار کیوں پھٹا جاتا ہے سینہ جیپ عاشق کی مثال روز وشب صبح ومسا رہتا ہوں میں کیوں دلفگار کیوں تسلی اس دلِ بے تاب کو ہوتی نہیں کیا سبب اس کا؛ کہ رہتا ہے یہ ہردم بے قرار کیا سبب جو خون ہو کر بہہ گیا میرا جگر بھید کیا ہے میری آنکھیں جو رواں ہیں سیل وار کون ہے میا د میرا؛ رکس کے پھندے میں ہوں میں کس کی افسونی نگاہ نے کرلیا مجھے کو شکار ۶۹ کیوں میں میدان تفکر میں کر ہنہ پا ہوا کیوں چلے آتے ہیں دوڑے میری پابوسی کو خار کچھ خبر بھی ہے تمھیں ، مجھ سے یہ سب کچھ کیوں ہوا کیوں ہوئے اتنے مصائب مجھ سے آکر ہمکنار کیا قصور ایسا ہوا؛ جس سے ہوا مکتوب میں کیا کیا جس پر ہوئے چاروں طرف سے مجھ پہ وار رکس کی فرقت میں ہوا ہوں رنج و غم سے ہمکنار ہجر میں کس کی تڑپتا رہتا ہوں لیل ونہار کس کے لعل کب نے چھینا سب شکیب و اصطبار کس کی دزدیدہ نگاہ نے لے لیا میرا قرار 12 ۶۸ 2۔اے ۷۲ ۷۳