بیت بازی — Page 484
484 م م ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ کلام محمود جن کو حاصل تھا تقرب ؛ وہ ہیں اب معتوب دہر اور ہیں مسند پہ بیٹھے؛ جو ہیں کچھ اور کر جب کہ ہر شے ملک ہے تیری مرے مولیٰ ! تو پھر جس سے تُو جاتا رہے؛ بتلا کہ وہ جائے کدھر جو ہے رقیبوں سے تم کو اُلفت؛ تو دل میں پوشیدہ رکھو اس کو مجھے ہو دیوانہ کیوں بناتے؛ بتا بتاکر، جتا جتا کر جو کوئی ہے دن بلائے آیا ؛ تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہوا نھیں بیٹھا تے بلا بلا کر جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی؛ وہ کون تھا جو کہ لے گیا دل ہے؛ خضر تمھیں اس کا کچھ پتا ہے؟ آنکھیں ملا ملا کر جو مارنا ہے تو تیر ہمہ گاں سے چھید ڈالو دل و جگر کو نہ مجھ کو تڑپاؤ آب زیادہ ؛ تم آئے دن یوں ستاستا کر کہتے ہیں؛ مجھ ۵۰ جو کو چہ عشق کی خبر ہو ، تو سب کریں ایسی بے حیائی یہ اصل ظاہر، جو مجھ سے ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۶ کچھ تو اے بے حیا! حیا کر جو کوئی بھی ہے؛ وہ مجھ سے برسر پر خاش ہے ہر کوئی ہوتا ہے آکر؛ میری چھاتی پر سوار جس قدررستہ میں روکیں ہیں؛ ہٹا دے وہ اُنھیں جس قدر حائل ہیں پر دے؛ اُن کو کر دے تارتار ہٹادے جب نظر میری پڑی ماضی پر دل خون ہوا جان بھی تن سے مری نکلی؛ پسینہ ہوکر جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی؛ اے جاناں ! تمھیں کیا فائدہ ہوگا بھلا؛ اُس پر خفا ہوکر جس کی حیات اک ورق سوز و ساز تھی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم! ترے ایسے پیار پر