بیت بازی

by Other Authors

Page 32 of 871

بیت بازی — Page 32

32 32 ۵۷۹ ۵۸۰ اور اس کو نکالے ظلمتوں اگر رہنما اب بھی کوئی آئے جو شرک میں کفر میں پھنسا ہے تو سمجھو کہ وقت آخری آگیا ہے اُٹھو! اس کی امداد کے واسطے تم حمیت کا یارو! یہی مقتضا کہ نائب محمد کا پیدا ہوا ہے ہے ۵۸۲ اُٹھو دیکھو! اسلام کے دن پھرے ہیں اُس کی شمشیر خونچکاں نے کیا قھوری کو ٹکڑے ٹکڑے یہ زلزلہ بار بار آکے؛ اُسی کی تصدیق کر رہا ہے ۵۸۳ ۵۸۴ ΟΛΥ ۵۸۹ ۵۹۰ ۵۹۱ اس چمن پر جب کہ تھا دور خزاں؛ وہ دن گئے اب تو ہیں اسلام پر یارو! بہار آنے کے دن ۵۸۵ ان دنوں کیا ایسی ہی بارش ہوا کرتی تھی یاں سچ کہو! کیا تھے یہ سردی سے ٹھٹھر جانے کے دن آئیں گے اب مسیح دوبارہ زمیں پہ کیوں نظارہ بھا گیا ہے؛ انھیں آسمان کا ۵۸۷ اب آگیا؟ تو آنکھیں چراتے ہو کس لئے کیوں راستہ ہو دیکھ رہے آسمان کا ۵۸۸ اسلام کو اُسی نے کیا آکے پھر درست ہو شکر کس طرح سے ادا مہربان کا اے قوم! کچھ تو عقل وخرد سے بھی کام لے لڑتی ہے جس سے؛ مرد وہ ہے کیسی شان کا اے دوستو! جو حق کیلئے رنج سہتے ہو یه رنج و درد و غم ہے فقط درمیان کا اب اس کے پورا ہوتے ہی؛ آجائے گی بہار وعدہ دیا ہے حق نے تمھیں؛ جس نشان کا اے مولویو! کچھ تو کرو خوف خدا کا کیا تم نے سُنا تک بھی نہیں؛ نام کیا کا اپنا چہرہ نہیں دکھلائے؛ وہ رب العزت مدتوں سے ہے؛ یہی دل میں تمنا ہم کو ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو؛ تو مانگو مجھ سے ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا ایما ہم کو ایک دم کیلئے بھی یاد سے کیوں تو اُترے اور محبوب کہاں تجھ سا ملے گا ۵۹۶ آدمی کیا ہے؛ تواضع کی نہ عادت ہو جسے سخت لگتا ہے بُرا؛ کمر کا پچھلا ۵۹۷ ان بے کسوں کی ہمتیں ؛ کیوں ہو گئیں بلند جن کا کہ گل جہاں میں نہ تھا کوئی پاسباں ۵۹۸ اک جام معرفت کا؛ جو ہم کو پلا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے؛ سب کو مٹا دیا ۵۹۹ اُس نے ہی آگے؛ ہم کو اُٹھایا زمین سے تھا دشمنوں نے خاک میں ہم کو ملا دیا ایسے نشاں دکھائے؛ کہ میں کیا کہوں تمھیں کفار نے بھی اپنے سروں کو جھکا دیا ۵۹۲ ۵۹۳ ۵۹۴ ۵۹۵ ۶۰۰ ہم کو ہم کو