بیت بازی — Page 31
31 ۵۵۷ ۵۵۹ ایسی ۵۶۰ ۵۶۱ ۵۶۲ ۵۶۳ ۵۶۴ اے خدا! تو نے جو لڑکا دیا اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے بیمار عشق ہوں تیرا دے تو شفا مجھے ۵۵۸ احساں نہ تیرا بھولوں گا؛ تازیست اے مسیح پہنچا دے گر تو یار کے در پر ذرا مجھے ایسی چھوٹی عمر میں ختم قرآں گم نظیریں ایسی ملتی ہیں یہاں کر اسے سب خوبیاں بھی اب عطا انہیں صبح ومسا؛ دیں اور دنیا میں ترقی دے نہ ان کو کوئی چھوٹا سا بھی آزار اور دُکھ پہنچے ایسے لوگوں سے تھا؛ انصاف کا پانا معلوم خیال انصاف کا تھا؛ جن کے دلوں سے معدوم افسر فوج لڑائی کے فنوں میں چوپٹ منہ سے جو بات نکل جائے؛ پھر اُس پر تھی ہٹ اک طرف مرہٹوں کی فوج ہے لڑنے کو کھڑی دُوسری جا پہ ہے۔دوسری جا پہ ہے سکھوں نے بھی شورش کر دی الغرض چین کلیجے کو نہ دل کو آرام رات کا فکر لگا رہتا تھا؛ سب کو سرِشام ۵۶۶ ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے بُرے اور بھلے کیا مجال؛ اُن سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے مکرر جو ہے پھر وقت مسیحا آیا قیصر روم کا کیوں ثانی نہ پیدا ہوتا ۵۲۸ ابن مریم سے ہے جس طرح یہ عالی رتبہ قیصر ہند بھی ہے؛ قیصر روما سے بڑا اک قیامت کا سماں ہوگا؛ کہ جب آئیں گے وہ مال کی ویرانی کے؛ اور جان کے کھانے کے دن اب ہنسی کرتے ہیں احکام الہی سے لوگ نہ تو اللہ ہی کا ڈر ہے؟ نہ عظمی کا غم علمی کا بھی علم ہے کامل اُن کو ڈالتے ہیں انھیں دھوکے میں مگر دام و دِرَم ایسی حالت میں بھی؛ نازل نہ ہو گر فضل خدا کفر کے جب کہ ہوں اسلام پر حملے پیہم اپنے وعدے کے مطابق؛ تجھے بھیجا اُس نے امت خير رُسُل پر ہے کیا اُس نے کرم ۵۶۵ ۵۶۷ ۵۶۹ ۵۷۰ ۵۷۱ ۵۷۲ ۵۷۳ اب اپنی لم کوئے دلیر والله مصطفى تو آچکا ہے ۵۷۴ اب راہِ کوئے غلام ۵۷۵ اب اور کا انتظار چھوڑو آنا تھا جسے وہ ۵۷۶ نوم خدا کے واسطے تو بتلا ! که جو تیرا مدعا ہے ۵۷۷ الله چاہو عفو تقصیر ہے اُسے؛ جو مانگتا ہے ۵۷۸ اُس شخص کو شاد رکھے ہر دم دین قویم فدا ہے ملل