بیت بازی — Page 399
399 ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ یاد میں کس کی وہ آفاق پہ بہتا ہوا حسن نت نئی دنیا؛ نئے دیس میں ڈھلتا ہوتا یوں لگا؟ جب ملا وہ جیسے صدیوں پہلی بار کلام محمود آشنا سا تھا یہ بھی اسی کے دم سے ہے؟ نعمت تمہیں ملی تا شکر جان و دل سے؛ خدا کا کرو ادا یونہی پڑے نہ باتیں بناتے؛ تو خُوب تھا کچھ کام کر کے ہم بھی دکھاتے؛ تو خُوب تھا ۳۰ یہی ہے آرزو اس کی الہی! یہی ہے التجا اس کی خُدایا! یہ دیکھ کر کہ دل کو لیے جا رہے ہیں وہ میں نے بھی اُن کے حُسن کا نقشہ اُڑا لیا یہی ہوگا نا؛ غحصہ میں ، وہ ہم کو گالیاں دیں گے سُنائیں گے وہ کچھ ؛ پہلے نہ جو ہم نے سُنا ہوگا ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ یا فاتح روح ناز ہو جا یا تو ہمہ تن نیاز ہو جا یا میری ہنسی بھی تھی عبادت میں ہی داخل یا ذهد وتعبد میں بھی پاتا ہوں خسارا یا غیر بھی آکر مری کرتے تھے خوشامد یا اپنوں نے بھی ذہن سے اپنے ہے اتارا یا آج میرے حال پہ روتا ہے فلک بھی سورج کا جگر بھی ہے غم و رنج سے پارا یا گند چھری ہاتھ میں دیتا تھا نہ کوئی یا زخموں یا زخموں سے آب جسم میرا چور ہے سارا یا زانوئے دلدار مراتکیہ تھا؛ یا آب سر رکھنے کو ملتا نہیں پتھر کا سہارا یہ رُعب اور شان؛ بھلا اُس میں تھی کہاں یہ دبدبہ تھا قیصر روما کو کب ملا