بیت بازی

by Other Authors

Page 398 of 871

بیت بازی — Page 398

398 یہیں چھوڑ کر وہ ولی مر گیا نصیحت تھی مقصد ادا کر گیا یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا ہو، ہے یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا قدرت کا جلوہ نما کلام خدا؛ اس ہے جابجا میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا تو ہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے انھیں کیا کیا دکھایا یہ حکم سُن کے بھی؛ جو لڑائی کو جائیگا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا یا مخبری سے ان کی؛ کوئی اور ہی بلا آجائے مجھ پہ یا کوئی مقبول ہو دعا ممکن ہے؛ کشفی ہو یہی سالکوں کا ماجرا دکھایا گیا ہو۔بحكم خدا تو تھا مدعا اسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا یہ معیار ہے؟ دیں کی تحقیق کا کھلا فرق دجال و صدیق کا یہ نانگ کرنے لگے جب نور خدا ہے خدا چھوٹی عمر پر جدا رہے زور کر کر کے بے مدعا ملا ارے! جلد آنکھوں ނ اپنی لگا ہے فرفر سنایا جب آزمایا کلام حق کو در عدن یا الہی! خیر ہو؛ آئیں بصد فتح و ظفر دردِ دل سے تھی حضور ذات باری التجا یہ زباں تیری، قلم تیرا؛ ترے قلب و دماغ ہیں سبھی میرے تصرف میں، تجھے پھر خوف کیا یارا نہیں پاتی ہے زباں شکر و ثنا کا احساں سے بندوں کو دیا اذن دعا کا کلام طاهر یہ بھی شاید! کوئی بھٹکا ہوا راہی غم ہے دو گھڑی قلب کے غم خانے میں ستائے گا یوں ہی چھپ چھپ کے ملا کرتے پس پردہ دل دل ہی دل میں کسے معلوم؛ کہ کیا کیا ہوتا یوں ہی بڑھتی چلی جاتی رہ و رسم اُلفت ہم نے جی کھول کے اک دوجے کو چاہا ہوتا ادا، دل کو لبھاتی؛ تو ستاتی بھی بہت سوچتا، تم نہ مرے ہوتے؛ تو پھر کیا ہوتا ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵