بیت بازی

by Other Authors

Page 396 of 871

بیت بازی — Page 396

396 ہوں اتنا منفعل اس سے کہ بولا تک نہیں جاتا میں اس سے مغفرت کا بھی تو خواہاں ہو نہیں سکتا پارہ ہائے جگر شمس کو اُڑتا دیکھا ہلتے دیکھا جو کبھی تیرا ہلال ابرو ہر اک نے ساتھ چھوڑ دیا؛ ایسے حال میں سمجھے تھے باوفا جسے؛ وہ بے وفا ہوا ہم بھی کمزور تھے؛ طاقت نہ تھی ہم میں بھی کچھ قول آقا کا مگر ہم سے ہٹایا نہ گیا ہوا مایوس جب چاروں طرف نہ جب کوشش نے اس کا کچھ بنایا ہنس کے کہتا ہے دیکھ کر مجھ کو دیکھو! فریاد مظلوم کی سُننے وہ والا صداقت کا کرتا گھر کا ہے ہو گیا دیا طرف ہر ނ رہا مجھے گھاٹا میرا دل فگار آیا وہ بول بالا ہے امن اور چین کا حصار گیا ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۲ دل کا اعتبار گیا دل گیا؛ دل کا ۴ ہجر میں وصل کا مزا پا لیا میں نے ہمنشیں کب پہ تو تھا نہیں؛ مگر آنکھ میں اُن کی پیار تھا ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ہیں ناخُدائے قوم بنے صاحبانِ عقل ہے اس خیال نے مجھے دیوانہ کر دیا خود مجھ کو اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا ہر جلوة جدید نے تختہ الٹ دیا ہو چکا ہے ختم اب چکر تیری تقدیر کا سونے والے اُٹھے! کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا ہوچکی مشق ستم اپنوں کے سینوں پر بہت اب ہو دشمن کی طرف رُخ تجر و شمشیر کا ہو رہا ہے کیا جہاں میں ؛ کھول کر آنکھیں تو دیکھے وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا ہوئے نہ انجمن آرا، اگر؛ تو کیا کرتے کہ ان کے حسن کا؛ کوئی بھی تو جواب نہ تھا ہنتے ہی ہنستے رُوٹھ گئے تھے وہ ایک دن ہم نے بھی رُوٹھ رُوٹھ کے؛ اُن کو منا لیا ہونے دی اُن کی بات نہ ظاہر کسی یہ بھی جو زخم بھی لگا اُسے دِل میں چھپا لیا ہے قدم دنیا کا ہر دم آگے آگے تیز تر گردش میں ہیں پہلے سے اب ارض و سما ہم اُن کی تلخ گفتاری پہ ہرگز کچھ نہ بولیں گے جو بگڑے گا، تو اُن کا مُنہ؛ ہمارا حرج کیا ہوگا ہر اک جاہل یہ باتیں سن کے بھر جائے گا غصہ سے ہمارے قتل پر آمادہ؛ ہر چھوٹا بڑا ہوگا ہماری سنگ باری کیلئے ؟ پتھر چنیں گے سب کمر میں ہرگس و ناکس کے؛ اک خنجر بندھا ہوگا جا رہا