بیت بازی

by Other Authors

Page 392 of 871

بیت بازی — Page 392

392 وہ صدق و محبت وہ مہر و وفا جو نانگ سے رکھتے تھے تم کر ملا Λ و 1۔۱۱ ۱۲ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا وصیت میں کیا کہہ گیا پر ملا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا ۲۳ ۲۴ وہی جس کو کہیں رب البرایا وہ فاسق ہے؛ کہ جس نے رہ گنوایا نظر بازی کو اک پیشہ بنایا در عدن که وہ مسیحا؛ جس کو سنتے تھے، فلک پر ہے مقیم لطف ہے اس خاک سے تو نے نمایاں کر دیا واسطہ تجھ کو تیری واسطه وعده تجھ کو تیری قدرت کا گر نہ آئے تو کیا فائدہ ہوا رحمت کا گو سچ تو یہ ہے؛ کہ اب جو ہونا تھا، ہوچکا کلام طاهر وہی میں تھا؛ وہی طلب دل کی وہی اک عشق نارسا سا تھا وائے پیری کی پشیمانی جوانی کے جنون خود سے میں شرمندہ تھا؟ مجھ سے مرا آئینہ تھا وہ ماہِ تمام اُس کا ؛ مہدی تھا غلام اُس کا روتے ہوئے کرتا تھا؛ وہ ذکر مدام اُس کا وہ جس کی رحمت کے سائے؛ یکساں ہر عالم پر چھائے وہ جس کو اللہ نے خود اپنی رحمت کی ردا دی؛ آیا وہ احسان کا افسوں پھونکا؛ موہ لیا دل اپنے عدو کا کب دیکھا تھا پہلے کسی نے حسن کا پیکر اس خو بو کا وہ سمندر کے کنارے ہمیں لے جاتا تھا دیر تک وہ آپ ساحل ہمیں ٹہلاتا تھا سراپا جمال سر تا پا حسن صنعت صنعت کا معجزہ سا وہ کلام محمود تھا وہ شاہ جہاں؛ جس کیلئے چشم کمرہ ہے وہ قادیاں میں بیٹھا ہے؛ محبوب خدا کا وہ دل جو بُغض وکینہ سے تھے کور ہو رہے دیں کا کمال اُن کو بھی اُس نے دیکھا دیا وہاں ہم جا نہیں سکتے؛ یہاں وہ آ نہیں سکتے ہمارے درد کا کوئی بھی درماں ہو نہیں سکتا وہ ہیں فردوس میں شاداں ؛ گرفتار بکا ہوں میں وہ غمگیں ہو نہیں سکتے ؟ میں خنداں ہو نہیں سکتا وہ خواب ہی میں گر نظر آتے ؛ تو خوب تھا مرتے ہوئے کو آکے چلاتے؛ تو خوب تھا