بیت بازی

by Other Authors

Page 26 of 871

بیت بازی — Page 26

26 26 ۴۶۰ ۴۶۱ ۴۶۲ ۴۶۳ ۴۶۴ ۴۶۸ ۴۶۹ ۴۷۰ اگر ہے ضد کہ نہ مانو گے؛ پر نہ مانو گے تو ہو سکے جو کرو؛ بار بار کر دیکھو اتر رہی ہیں فلک سے گواہیاں؛ روکو وہ غل غپاڑہ کرو؛ حال زار کر دیکھو راک دن تیرے مقتل میں کہے گا دم جلاد اے بوسنیا ! بوسنیا! بوسنیا زندہ باد اے وائے! وہ سر ؛ جن کی اُتاری گئی چادر پاکستہ پذر اور پسر؛ جن کے برابر اللہ کی رحمت سے سب ہو جائیں گے دلشاد اے بوسنیا ! بوسنیا! بوسنیا زندہ باد مٹ مدعا ۴۶۵ اُترے گا خدا جب تیری تقدیر بنانے جائیں گے؛ نکلے جو تیرا نام مٹانے آؤ سجنو! مل لیے ؛ تے گل اُس یار دی چلے کردے جیدے دانے ٹک گئے گل پرسوں دی گل اے ۴۶۷ اُتلے یار نے جد صد ماری؛ پین سٹئی دنیا دی یاری عرشاں تائیں لائی تاری؛ مار اُڈاری گلتے ایم۔ٹی۔اے دی خاطر گھر و چار چفیرے پونیا مخلص منڈے گڑیاں کچھ کے چونویں چونویں ونے اونوں کیو میں دستاں کہ میں تیتھوں آج سکھ پائیا شاوا سوہنے یار مبشر! واہ واہ! بکے بکے! کیویں اُسے ڈھونڈتی ہیں گلی گلی مری خلوتوں کی اُداسیاں وہ ملے تو بس یہ کہوں کہ آ مرا مولیٰ تیرا بھلا کرے اک برگد کی چھاؤں کے نیچے کیسے کچھ عرض کرتا؛ اک مسافر پڑا تھا غم سے پھور اپنی حاجات کا بھی تھا نہ شعور ۴۷۲ اسے ڈبو کے کوئی اور اچھال کام کا چاند تو یہ کرے تو کبھی تجھ یہ پھر زوال نہ ہو ۴۷۳ اذانیں دے کے دُکھاؤ نہ دل خدا کیلئے درود پڑھ کے ستاؤ نہ مصطفیٰ " کیلئے دل میں اور کسی کا نام لیا ہوگا یہ سُندر نام ہونٹوں سے دل تک کر دیتا ہے پاک مجھے اللہ کے بہت پیارے؛ مرے مُرشد کا نام محمد ہے سینے سے عرش تک اُٹھتے ہوئے نوروں کے دھارے دیکھتا ہوں میرے نور مجسم صلى الله امر شد کا نام محمد ہے اس کے قدموں کی خاک تلے میں اپنی جنت پاؤں گا ہردم نذر الاسلام؛ مرے مُرشد کا نام محمد ہے ۴۷۴ ۴۷۵ احمدیوں نے جب بھی درود پڑھا ہوگا اس نام کے جینے سے قرآن کا ہوتا ہے ادراک مجھے ۴۷۶ اس نام کے دیپ جلاتا ہوں تو چاند ستارے دیکھتا ہوں ۴۷۸ اس نام کے پکو پکڑے پکڑے اس دنیا تک جاؤں گا و بقا پہ پہرے ہیں دل میں فغاں ہے بند اے رات! آبھی جا! کہ رہا ہوں طیور شب