بیت بازی — Page 378
378 ۹ کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چُپ تھی؛ اور سینہ میں نور تھا کہ دلدار کی بات ہے اک غذا " کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے ۱۲ ۱۳ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۹ کہاں ہیں؟ جو نانک کے ہیں مگر تو ہے منکر؛ تجھے اس سے کیا! پیاروں کا چولہ بقا فنا ہوا کیوں بُرا سب کا انجام ہے؛ جز خدا خاک جو کرتے ہیں اُس کیلئے جاں فدا پا ۱۴ کیونکر ہو شکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے؛ گھر بھر دیا ہے میرا کس زباں سے میں کروں شکر ، کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں؛ اور رحم فراواں تیرا کس کے دل میں یہ ارادے تھے؛ یہ تھی کس کو خبر کون کہتا تھا؟ کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا کوئی ضائع نہیں ہوتا؛ جو تیرا طالب ہے کوئی رسوا نہیں ہوتا؟ جو ہے جویاں تیرا ۱۸ کہ تو نے پھر مجھے یہ دن دکھایا کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کے آیا کروں گا دُور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا؛ کہ اک عالم کو پھیرا کیا زندگی کا ذوق؛ اگر وہ نہیں ملا لعنت ہے ایسے جینے پہ؛ گر اُس سے ہیں جُدا کچھ ایسا فضل حضرت رب الوریٰ ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے؛ اوساں ہوئے خطا کوئی اگر خدا یہ کرے کچھ بھی افترا ہوگا وہ قتل؛ ہے یہی اس مجرم کی سزا کیا وہ خدا نہیں ہے؛ جو فرقاں کا ہے خدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے اس قدر وفا کیسا یہ فضل اس سے نمودار ہو گیا اک مُفتری کا وہ بھی مددگار ہو گیا کیا راستی کی فتح نہیں وعدہ خدا دیکھو تو کھول کر سخن پاک کبریا کذاب نام اس کا دفاتر میں رہ گیا چالاکیوں کا فخر جو رکھتا تھا بہہ گیا کوئی بھی مُفتری ہمیں دنیا میں اب دکھا جس پر یہ فضل ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ' ہو؟ عنایات، یہ عطا کیا تھا یہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ یہی ہوا کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے؛ دھوکے میں آگیا کہاں کرتی ہے عقل اُس کو گوارا کہ بن قدرت ہوا یہ جگت سارا