بیت بازی

by Other Authors

Page 373 of 871

بیت بازی — Page 373

373 عمر بھر میں بھی تمہیں ڈھونڈتا بے سود اگر عالم خواب میرا ملجا و ماویٰ ہوتا کلام محمود ! عطا کر ان کو اپنے فضل سے صحت بھی اے مولی ! ہمیشہ ان پہ برسا؛ ابر اپنے فضل و رحمت کا عدل و انصاف میں وہ نام کیا ہے پیدا آج ہر ملک میں جس کا بجا ہے ڈنکا علم کا نام و نشاں یاں سے مٹا جاتا تھا شوق پڑھنے کا دلوں میں سے اُٹھا جاتا تھا عیسی تو تھا خلیفہ موسی او جاہلو! تم سے بتاؤ کام ہے کیا اُس جوان کا عشق مولی دل میں جب محمود ہوگا موجزن یاد کر اس دن کو تو ؛ پھر کیا سے کیا ہو جائے گا عزت بھی، اُس کی دُوری میں؟ بے آبروئی ہے کوچہ میں اس کے خاک اُڑاتے ؛ تو خوب تھا عشق اک راز ہے؛ اور راز بھی اک پیارے کا مجھ سے یہ راز؛ صد افسوس! چھپایا نہ گیا چھپاتا کبھی دکھاتا عشق کی آگ تیز کرنے کو منه تھا عقل پر کیا طالب دنیا کی ہیں پردے پڑے ہے عمارت پر فدا؟ منکر مگر معمار کا وہ ترانه بنا عرش بھی جس سے مرتعش ہو جائے سوزش دل سے عشق کی سوزشیں بڑھا؛ جنگ کے شعلوں کو دبا پانی بھی سب طرف چھڑک ؛ آگ بھی تو لگائے جا عطائیں ان کی بھی بے انتہا تھیں مجھ پہ مگر مطالبوں کا میرے بھی؛ کوئی حِساب نہ تھا عشق و وفا کا کام نہیں؛ نالہ و فغاں بھر آیا دل؛ تو چکے سے آنسو بہالیا عشق کی سوزش نے آخر کر دیا دونوں کو ایک وہ بھی حیراں رہ گیا؛ اور میں بھی حیراں ہو گیا کلام حضرت خليفة المسيح الثالث عیسی کو چرخ پر نہ بٹھاتے ، تو خُوب تھا احمد کو خاک میں نہ سلاتے، تو خُوب تھا عالم کو میں معطر کردوں گا اس مہک سے خوشبو سے جس کی ہر دم مدہوش میں رہوں گا 1۔11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴