بیت بازی — Page 362
362 ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ پر فدا ہو جائے گا دیکھ لینا ایک دن؛ خواہش پر آئے گی مری میرا ہر ذرہ؛ محمدم دیر کرتے ہیں جو نیکی میں؟ ہے کیا ان کا خیال موت کی ساعت میں بھی؛ کچھ التوا ہو جائے گا دشمن اسلام جب دیکھیں گے اک قہری نشاں جاں نکل جائے گی ان کی؛ دم فنا ہو جائے گا دلبر سے رابطہ جو بڑھاتے ؟ تو خُوب تھا یوں عُمر رائیگاں نہ گنواتے؛ تو خوب تھا ۲۹ دنیائے دُوں کو آگ لگاتے؛ تو خُوب تھا کوچہ میں اس کے دھونی رماتے ؛ تو خوب تھا دیکھ کر اس کو ؛ ہیں دُنیا کے حسیں دیکھ لئے کیا بتاؤں؛ کہ ترے چہرہ میں ہے کیا دیکھا دیکھ کر ارض و سما؛ بار گران تشریع رہ گئے ششدر و حیران اُٹھایا نہ گیا دُنیا کی نگہ پڑتی تھی جن ماہ وشوں پر وہ بھی مجھے رکھتے تھے دل و جان سے پیارا دل میں رکھوں گا چھپا کر ؛ آنکھ کی پتلی بنا کر اپنے سینے سے لگا کر ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا دلبر ہے وہ ہمارا؛ تم اس سے چاہ رکھنا مشکل کے وقت دونوں؛ اس پر نگاہ رکھنا ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ہی درد درد ره گئی اب عیش دنیا کا ہے اب و سب محمار گیا اشکبار گیا دل اند و نگیں کو لے کر ساتھ چاک دامان دَخَلَت صُفُوفَ عِدَّى بِغَيْرِ رَوَيَّةٍ فَازَت جَمَاعَةُ صَحِبِهِ بِقُحُومِهَا دیر کے بعد وہ ملے ؛ اُٹھ کے ملے ، کیسے سکت دل میں خوشی کی لہر تھی؛ آنکھ سے اشکبار تھا درد نہاں کا حال کسی کو سُنائیں کیا طوفان اُٹھ رہا ہے جو دل میں؛ بتائیں کیا دنیا ہے ایک زال عمر خورده و ضعیف اس زال زشت رُو سے بھلا دل لگائیں کیا دامن تہی فکر مشوش؛ نگہ غلط آئیں تو تیرے در یہ؛ مگر ساتھ لائیں کیا ہے، دل کو لے کر؛ میں کیا کروں پیارے! تو اگر میرا دلر با نہ بنا ہے اک طرفه شاخسانہ بنا دل و دلبر میں چھیڑ جاری ہے دوستوں ، دشمنوں میں فرق ؛ داب سلوک یہ نہیں آپ بھی جامِ کے اُڑا؛ غیر کو بھی پلائے جا دل کو ہے وہ قوت و طاقت عطا کی ضبط نے نالہ جو دل سے اُٹھا میرے؛ وہ طوفاں ہوگیا دل دے کے؛ ہم نے ان کی محبت کو پالیا بے کار چیز دے کے ڈر بے بہا لیا ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶