بیت بازی — Page 353
353 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ 19 ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ جس کی مدد کے واسطے؛ لوگوں میں جوش تھا جس کا ہر ایک دشمن حق عیب پوش تھا جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتقا جس کی یہ جڑ رہی ہے؛ عمل اس کا سب رہا جو ہمارا تھا؛ وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق؛ وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائے گا عزت؛ کوئی رُسوا ہوگا در عدن وہ بہر عالم آئینہ ابصار کا جب دل صافی میں دیکھا عکس روئے یار کا بن گیا جس نے دیکھا اس کو اپنی ہی جھلک آئی نظر مدتوں جھگڑا چلا دنیا میں؛ نور و نار کا جھوٹ کے منہ سے اتر نے جب لگی پھٹ کر نقاب ہو گیا دشوار سینا؛ اس کے اک اک تار کا جب سے تجویز سفر تھی؟ سب تھے مصروف دعا خود امیر المومنیں؛ اور ہر غلام با وفا کلام طاهر جھوٹو! تم نے ٹھیک الزام دھرا ہوگا اللہ والوں ہی نے کفر بکا ہوگا جب تصور کے نہاں خانہ میں ھنگامہ عشق ہم بپا کرتے؛ تو کچھ اُس کا نہ چرچا ہوتا جانتا کون ہمارے دل شوریدہ کا خواب دیکھتا کون؛ جو ہم دونوں نے دیکھا ہوتا جب بھی وہ آیا ساتھ نغمہ سرا آرزوؤں کا طائفہ تھا تھا جب گیا؛ حسرتوں کا اس کے ساتھ ایک غمناک جمگھٹا ب قیص نے کہا؛ تمہیں امی بلاتی ہیں امی کا نام سنتے ہی؛ بس وہ ٹھٹھر گیا جب کلام محمودی جو کہ قادر ہے؛ جسے کچھ بھی نہیں ہے پروا ٹھیک کر دے اُسے دم میں؛ کہ ہو جو کچھ بگڑا جس نے خدا کے پاس سے آنا تھا؛ آچکا لو آکے بوسہ سنگ در آستان کا جو کہ شمع رُوئے دلبر پر فدا ہو جائے گا خاک بھی ہوگا ؟ تو پھر خاک شفا ہو جائے گا جو کوئی اُس یار کے در کا گدا ہوجائے گا ملک روحانی کا وہ فرماں روا ہو جائے گا ۳۰ جس کو تم کہتے ہو یارو! یہ فنا ہو جائے گا ایک دن سارے جہاں کا پیشوا ہو جائے گا ۲۹