بیت بازی — Page 22
22 22 ۳۸۴ ۳۸۵ ۳۸۶ آیا اوروں سے ہوا تھا وہ ہم سے ہوا نہیں ہم سوگئے تو ہم کو جگایا گیا نہیں اوروں کے واسطے تیری سنت ہی اور تھی ان پر نظر ہی اور تھی؛ شفقت ہی اور تھی ہے کون کفر کی تردید کیلئے بھیجا ہے کس کو دین کی تجدید کیلئے اور اس سے بڑھ کے حال تو اُمت کا ہوگا کیا وعدہ جو تھا حبیب سے؛ وہ کیجئے وفا ۳۸۸ احسن سمجھ رہے ہیں ہر امر قبیح کو وقت آچکا ہے دیر سے بھیجو مسیج کو ۳۸۹ آقا جو بے رخی تیری جانب سے پاتے ہیں بنتے ہیں غیر اب ہمیں دشمن بناتے ہیں ۳۸۷ ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۳ ۳۹۴ ۳۹۵ ۳۹۶ ۳۹۷ اب تاب صبر کی ہمیں بالکل رہی نہیں آفت وہ کونسی ہے؛ جو ہم نے سہی نہیں آج ہر آج ہر ذره سیر طور نظر آتا ہے جس طرف دیکھو؛ وہی نور نظر آتا ہے ایک ہے مشتاق لقائے شہ دیں گھر میں بیٹھا کوئی رہ جائے؛ یہ ممکن ہی نہیں ابر رحمت ہر طرف چھائے چلے بادِ کرم بارش انوار سے پر ہو فضائے قادیاں اس صاحب آزار کی راحت ہے اسی میں بن جائے ہر اک زخم؛ نمک خوار محبت اس گل رعنا کو جب گلزار میں پاتی نہیں ڈھونڈ نے جاتی ہے تب بادِ صبائے قادیاں آئیں منصور و مظفر کامیاب و کامران قصر تثلیثی یہ گاڑ آئیں لوائے قادیاں ہے بے خبر لذتِ آزار محبت ارباب محبت پہ یہ کیوں طعنہ ظنی ۳۹۸ اے جنوں! دیوانہ ہوکر ہوش آیا ہے مجھے میں تیرے قربان! تو نے یہ تو احساں کر دیا ۳۹۹ اُڑ کر کہاں کہاں نہ گیا طائرِ خیال شاعر کو اپنے زورِ طبیعت پہ ناز ہے ۴۰۰ ۴۰۱ کلام طاهر اک ساعت نورانی خورشید سے روشن تر پہلو میں لئے جلوے؛ بے حد و شمار آئی ابلیس ہوا غارت؛ چوپٹ ہوا کام اس کا توحید کی یورش نے در چھوڑا نہ بام اس کا آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی ہم ڈر کے فقیروں کے بھی بخت سنوار آئی اے چشم خزاں دیدہ! کھل کھل ؛ کہ سماں بدلا اے فطرت خوابیدہ! اُٹھ اُٹھ کہ بہار آئی ۴۰۴ اللہ کے آئینہ خانے سے شریعت کی نکلی وہ دُلہن کر کے جو سولہ سنگار آئی ۴۰۲ ۴۰۳