بیت بازی — Page 344
344 در عدن و بھٹکے وہ جب کبھی، انہیں رستہ بتا دیا بھولے سبق جو کوئی؛ اسے پھر پڑھا دیا 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ بحر نے جوش فرمایا بن کے ابر کرم جو تو آیا کلام طاهر بہیں اشک کیوں تمہارے؟ انہیں روک لو خدارا! مجھے دکھ قبول سارے؛ یہ ستم نہیں گوارا ابن بیٹھے خدا بندے؛ دیکھا نہ مقام اس کا طاغوت کے چیلوں نے ہتھیا لیا نام اس کا بساط دنیا الٹ رہی ہے؛ حسین اور پائیدار نقشے جہانِ نو کے ابھر رہے ہیں؛ بدل رہا ہے نظام کہنا بڑھے چلو شاہراہ دین منتیں پہ در انا سائباں ہے تمہارے سر پر خدا کی رحمت قدم قدم گام گام کہنا ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ کلام محمود بھر جاؤں، تو اُٹھتے ہوئے طوفانوں سے، لیکن کشتی کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا برطانیہ؛ جو تم پہ حکومت ہے کر رہا تم جانتے نہیں ہو؛ کہ ہے بھید اس میں کیا باب رحمت؛ خود بخود، پھر تم پہ وا ہو جائے گا جب تمہارا قادر مطلق خدا ہو جائے گا بلبلہ پانی کا ہے انساں؛ نہیں کرتا خیال ایک ہی صدمہ اُٹھا کر؛ وہ ہوا ہو جائے گا پھلاؤں یاد سے کیونکر کلام پاک دلبر ہے جدا مجھ سے تو اک دم کو بھی قرآں ہو نہیں سکتا بھر منہ میں پھر کبھی کشتی نہ ڈوبتی ہم ناخدا، خدا کو بناتے؛ تو خوب تھا بیٹھا ہے فلک پر جو؛ اُسے اب تو بلاؤ چُپ بیٹھے ہو کیوں تم ؛ ہے یہی وقت دُعا کا باد سموم نے اسے مُرجھا دیا ہے کیوں؟ رہتا ہے کوئلہ کی طرح کیوں بجھا ہوا بجا ہے ساری دُنیا ایک لفظ میں ' کا ہے نقشہ جدھر دیکھو، چمک اس کی ؛ جدھر دیکھو، ظہور اس کا کی بتاؤں کیا کہ شیطاں نے کہاں سے کہاں لے جا کے ہے؛ اس کو گرایا بندہ کچھ سبز و بار دار گیا اس کی درگہ میں بار بار گیا باغ سونا ہوا میرا جب بادل ریش و حال زار گیا بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاک جدید تانا بانا ٹوٹنے والا ہے اب کفار کا