بیت بازی — Page 341
341 ۱۰۳ ۱۰۴ اس کے جلوے کی بتاؤں تمہیں کیا کیفیت مجھ سے دیکھا نہ گیا؛ تم کو دکھایا نہ گیا اس قدر محنت اُٹھا کر؛ دولت راحت لگا کر تم کو پایا، جاں گنوا کر ؛ اب تو میں جانے نہ دوں گا ۱۰۵ آسماں شاہد نہیں کیا؟ میرے اقرارِ وفا کا اے مری جاں میرے مولیٰ میں تمھیں جانے نہ دوں گا ۱۰۶ آؤ آؤ! مان جاؤ، مجھ کو سینے سے لگاؤ دل سے سب شکوے مٹاؤ ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا آیا دل میں میرے خیال یار آیا ۱۷ آه ۱۰۸ پھر موسم بہار اے چاند! تجھ میں نورِ خدا ہے چمک رہا جس سے کہ جامِ حُسن ترا ہے چھلگ رہا اب تو ہم ہیں؛ خزاں ہے، نالے ہیں بلبلو ! موسم بہار گیا آہوئے عشق گیا باقی عنبریں مو و مشک بار گیا رہ اے خدا! اس کا چارہ کیا؟ جس کا غم کے بڑھتے ہی غمگسار گیا آہیں بھرتا ہوا؟ ہوا حاضر سینہ کوبان سوگوار گیا اے خدا! کر دے منور؛ سینہ و دل کو میرے سر سے پا تگ ؛ میں بنوں مخزن ترے انوار کا اُن کے ہاتھوں سے تو جام زہر بھی تریاق ہے وہ پلائیں گر؛ تو پھر زہرہ کسے انکار کا آو غریب گم نہیں؛ غلیظ شہ جہاں سے کچھ جس سے ہوا جہاں تباہ؛ دل کا مرے غبار تھا اپنا ہی سب قصور ہے؛ اپنی ہی سب خطا الزام ان پر ظلم و جفا کا لگائیں کیا آنکھوں میں گھس کے وہ مرے دل میں سما گئے مسجد کو اک نگاہ میں بت خانہ کر دیا اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دُشمن کا دل دلبری کر؛ چھوڑ سودا نالۂ دل گیر کا اے میرے فرہاد! رکھ دے کاٹ کر کوہ و جبل تیرا فرض اولیں؛ لانا ہے جُوئے شیر کا آپ ہی وہ آگئے؛ بیتاب ہو کر میرے پاس درد جب دل کا بڑھا؛ تو خود ہی درماں ہو گیا اس دل نازک کے صدقے جو مری لغزش کے وقت دیکھ کر میری پریشانی پریشاں ہو گیا اک مکمل گلستاں ہے؛ وہ مرا میرا ٹھنچہ دہن جب ہوا وہ نئندہ زن؛ میں گل بداماں ہو گیا آگیا غیرت میں فوراً ہی ؛ مرا عیسی، نفس مرتے ہی؛ پھر زندگی کا میری ساماں ہوگیا آ بھی جا اے ضوء لا لـ آ بھی جا 1+9 11۔۱۱۲ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴