بیت بازی — Page 340
340 ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۹ ۹۰ ۹۱ اب آگیا؟ تو آنکھیں چراتے ہو کس لئے کیوں راستہ ہو دیکھ رہے آسمان کا اسلام کو اُسی نے کیا آگے پھر دُرست ہو شکر کس طرح سے ادا مہربان کا اے قوم! کچھ تو عقل و خرد سے بھی کام لے لڑتی ہے جس سے؛ مرد وہ ہے کیسی شان کا اے دوستو! جو حق کیلئے رنج سہتے ہو یہ رنج و درد و غم ہے فقط درمیان کا اب اس کے پورا ہوتے ہی؛ آجائے گی بہار وعدہ دیا ہے حق نے تمھیں؛ جس نشان کا اے مولویو! کچھ تو کرو خوف خدا کا کیا تم نے سُنا تک بھی نہیں؛ نام کیا کا ۸۷ اک جام معرفت کا جو ہم کو پلا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے؛ سب کو مٹا دیا اُس نے ہی آگے؛ ہم کو اُٹھایا زمین سے تھا دشمنوں نے خاک میں ہم کو ملا دیا ایسے نشاں دکھائے؛ کہ میں کیا کہوں تمھیں کفار نے بھی اپنے سروں کو جھکا دیا آدمی؛ تقوی سے آخر کیمیا ہو جائے گا جس میں دل سے چھوٹے گا؛ وہ طلا ہو جائے گا اس کی باتوں سے ہی ٹوٹے گا یہ دجالی طلسم اس کا ہر ہر لفظ؛ موسی" کا عصا ہو جائے گا آپ روحانی سے جب سیراب ہوگا گل جہاں پانی پانی شرم سے؛ اک بے کیا ہو جائے گا الہی ! پھر سبب کیا ہے؛ کہ درماں ہو نہیں سکتا ہمارا درددل جب تجھ سے پنہاں ہو نہیں سکتا ۹۴ اس بے وفا سے دل نہ لگاتے تو خُوب تھا مٹی میں آبرو نہ ملاتے؛ تو خوب تھا ۹۵ اک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے؟ تو خوب تھا روتے ہوئے کو آگے ہنساتے؛ تو خُوب تھا اک لفظ بھی زباں پہ نہ لاتے؛ تو خوب تھا دُنیا سے اپنا عشق چھپاتے؛ تو خوب تھا آب حیات پی کے خفر تم نے کیا لیا تم اس کی رہ میں خُون لنڈھاتے ؛ تو خوب تھا اے کاش! عقل عشق میں دیتی ہمیں جواب دیوانہ وار شور مچاتے تو خوب تھا اپنی آنکھوں سے کئی بار ہے سورج کا بھی پتا اُلفت میں تیری؛ میں نے پکھلتا دیکھا آہ و فغان کرتے ہوئے تھک گیا ہوں میں نالہ کہ جو رسا تھا میرا نا رسا ہوا اس درد و غم میں آنکھیں تلک دے گئیں جواب آنسو تلگ بہانا؛ انہیں ناروا ہوا اے چشمہ علم و هدی! اے صاحب فہم و ذکا! اے نیک دل! اے باصفا! اے پاک طینت ، باحیا! ، ۹۲ ۹۳ ۹۶ لا ۹۸ ۹۹ 1۔1+1 ۱۰۲