بیت بازی

by Other Authors

Page 339 of 871

بیت بازی — Page 339

339 บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ اُس کے سُروں کا چرچا جا جا؟ دیس بدیس میں ڈنکا با جا اُس بستی کا پیتم راجہ؛ کرشن کنہیا مرلی دھر تھا آشاؤں کی اُس بستی میں میں نے بھی فیض اُس کا پایا مجھ پر بھی تھا اُس کا چھایا؟ جس کا میں ادنیٰ چاکر تھا کس نے دی تھی؛ رات گئے میرے گھر کون آیا؟ اتنے پیار سے میرے دل کے کواڑ دستک اُٹھ کر دیکھا، تو ایشر تھا آخر دم تک تجھ کو پکارا؟ آس نہ ٹوٹی، دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا؛ پیکر صبر ورضا رہبر تھا اب پتا کر عمر ہوش آئی تو یہ عقدہ کھلا عشق ہی پاگل تھا؛ ورنہ میں تو سودائی نہ تھا اک کرشمہ فسوں کا پُراسرار حیرتوں کا ۶۷ آشنا ۲۸ 4۔اے ۷۳ ہو کے اجنبی تھا وہ مجسمه تھا شخص ساتھ رہ کر جُدا جُدا سا تھا تھا اس تصور سے؛ کہ تم چھوڑ کے جاتے تو سدا دل محبت کی اک اک بوند کو ترسا ہوتا ۲۹ آنکھ سے میری برستا وہ لہو کہ پہلے شاید ہی اور کسی آنکھ سے برسا ہوتا اُس میں ہر لحظہ لرزتا ہوا بجھتا ہوا عکس اک حسیں چاند سے چہرے کا جھلکتا ہوتا اب علاج غم تنہائی کہاں سے لاؤں تم کہیں ہوتے؛ تو اس غم کا مداوا ہوتا آؤ! اب بنچوں پہ ساگر کے کنارے بیٹھیں تھک چکے ہو گے تمہیں کل بھی تو جگراتا تھا اس کے دائم فراق میں شب و روز وصل کا سرمدی مزا سا آج آیا بھی تو بدلا ہوا محبوب آیا غیر کے بھیس میں لپٹا ہوا؟ کیا خوب آیا اس طرح آیا کہ اے کاش! نہ آیا ہوتا مجھ سے جھینپا ہوا؟ سو پردوں میں محبوب آیا اُف یہ تنہائی تری اُلفت کے مٹ جانے کے بعد تیری فُرقت میں تو اتنا رنج تنہائی نہ تھا ابلیس ہوا غارت؛ چوپٹ ہوا کام اس کا توحید کی یورش نے؛ در چھوڑا نہ بام اس کا اس دور کا یہ ساقی؛ گھر سے تو نہ کچھ لایا مے خانہ اسی کا تھا؛ مے اس کی تھی، جام اس کا شاه یکی و مدتی سیڈ الوریٰ! تجھ سا مجھے عزیز نہیں؟ کوئی دوسرا ۷۴ ۷۵ 22 ZA ۸۰ کلام محمود آئیں گے اب مسیح دوبارہ زمیں پہ کیوں نظارہ بھا گیا ہے؛ انھیں آسمان کا