بیت بازی — Page 337
337 ۲۲ ۲۳ اس رخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ ملے یار آشنا ان کینوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا سب کی مراد تھی؛ کہ میں دیکھوں کہ فنا القصہ جہد کی نہ رہی کچھ بھی انتہا اک سو تھا مگر ایک طرف سجدہ و دعا ۲۵ اس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رخ کافر و دیندار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے ہوا جاں گھٹی جاتی ہے؛ جیسے دل گھٹے بیمار کا ہوا ہے ویدوں کا ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو! اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آگیا ہے ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ان کو سودا مذہب اسی وہ اسے سر پہ چوم کبھی نہیں چلتے کال سر پر سب راز حق پا گیا اسی رکھتے تھے اہل صفا کر کرتے اس غرض که زنده کھڑا ویدوں کا ہے ویدوں کا وہ حق کی طرف آگیا بلا تذلل سے؛ جب پیش آتی سکا جاتا تھا فضل قادر خدا رو رو دعا تو ہوویں نہ ہو ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں؛ تو جاں ہی سہی بلا سے کچھ تو نپٹ جائے فیصلہ دل کا اگر ہزار بلا ہو، تو دل نہیں ڈرتا ذرا تو دیکھئے! کیسا ہے حوصلہ دل کا اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا؛ اُسی نے کریا بنا دیا آب دیکھتے ہو؛ کیسا رجوع جہاں ہوا اک مربع خواص؛ یہی قادیاں ہوا ودر عدن والا دلا که نه شنوی صدائے احمد را که تو هنوز نه دیدی ضیائے احمد را لده اے سراج منیرا آیا ساری دنیا میں نور پھیلایا اے جنوں دیوانہ ہو کر ہوش آیا ہے مجھے میں ترے قربان؛ تو نے یہ تو احساں کر دیا آسماں شاہد ہے؛ ہاں اب تک زمیں کو یاد ہے کانپ جانا نعرہ تکبیر سے کفار کا