بیت بازی

by Other Authors

Page 336 of 871

بیت بازی — Page 336

336 ۴ Λ ۱۲ ۱۳ در ثمین اسلام چیز کیا ہے؛ خدا کیلئے فنا ترک رضائے خویش؛ پئے مرضی خدا اس سے ہمارا پاک دل و سینہ ہو گیا وہ اپنے منہ کا آپ ہی آئینہ ہو گیا اس نے درخت دل کو؛ معارف کا پھل دیا ہر سینہ شک سے دھو دیا؛ ہر دل بدل دیا اس سے خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا شیطاں کا مکر و وسوسہ؛ بے کار ہو گیا اس نے ہر ایک کو وہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک و شبہہ تھے؛ سب کو مٹا دیا اگر تُو بھی چھوڑے اگر اسے تہ ملک ہوا تجھے بھی جاں کروں اس کی رہ میں فدا تو پھر بھی نہ مرده کہنا؛ خطا خطا رتبہ کرے شکر وہ عطا ہو اس کا ادا ہے کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا تمہارا گرو؛ تم کو سمجھا گیا اُٹھو سونے والو! کہ وقت آگیا اے قادر و توانا! آفات ۱۴ آسماں پر سے سے بچانا ہم تیرے در پہ آئے؛ ہم نے ہے تجھ کو مانا احقر کو میرے پیارے! اک دم نہ دور کرنا بہتر ہے زندگی سے تیرے حضور مرنا اقبال کو بڑھانا؛ اب فضل لے کے آنا ہر رنج - بچانا ؛ دکھ درد سے چھڑانا ایک ذرہ بھی نہیں تو نے کیا مجھ سے فرق میرے اس جسم کا ہر ذرہ؛ ہو قرباں تیرا فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا ۱۵ اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب و گماں وہ جو اک پختہ تو کل سے ہے مہماں تیرا اب مجھے زندگی میں ان کی مصیبت نہ دکھا بخش دے میرے گناہ؛ اور جو عصیاں تیرا اس جہاں کے نہ بنیں کیڑے یہ کر فضل ان پیر ہر کوئی ان میں سے کہلائے مسلماں تیرا نا پر ایسا گماں کہ مہدئی خونی بھی آئیگا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائیگا ۱۹ اگر اس بن بھی ہوسکتی ہیں اشیاء تو پھر اس ذات کی حاجت رہی کیا اس قدر کین و تعقب بڑھ گیا جس سے کچھ ایماں جو تھا؛ وہ سڑ گیا اے عزیزو! اس قدر کیوں ہو گئے تم بے حیا کلمہ گو ہو؛ کچھ تو لازم ہے تمہیں خوف خدا ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۲۰ ۲۱