بیت بازی

by Other Authors

Page 21 of 871

بیت بازی — Page 21

21 ۳۶۲ ۳۶۶ اپنی ستاری کا صدقہ؛ میرے ستار العیوب حوض کوثر میں ڈبو دے نامہ اعمال کو ۳۶۳ آگیا آخر؛ خدا کے فضل سے دن گنا کرتے تھے، جس دن کیلئے ۳۶۴ آج جو تلخ ہے؛ بے شک وہی کل شیریں ہے سچ کسی نے ہے کہا؛ صبر کا پھل شیریں ہے ۳۶۵ اک جوان منحنی اُٹھا بعزم استوار اشکبار آنکھیں لبوں پر عہدِ راسخ دل نشیں ایسی باتیں؛ جن سے پھٹ جاتا ہے پتھر کا جگر صبر سے سنتا رہا؛ ماتھے پہ بل آیا نہیں ۳۶۷ ارض ربوہ جس کی شاہد ہے؛ وہ معمولی نہ تھا خونِ فخر المرسلیں تھا شیر اُم المومنین ۳۶۸ آج فرزند مسیحائے زماں بیمار ہے دعوئی دارانِ محبت سو رہے جا کر کہیں ۳۶۹ آگاہ ہو تم پہلے اسلام کی سنت سے دیتی ہوں دعا خالد پھر صدق و محبت سے بھروسہ ہو؛ اور پاک ارادے ہوں اعمال کی پرسش ہے؛ انسان کی نیت سے ۳۷۱ اور کرشمہ قادر باری! قدرت کا دکھلاوے بنے بنائے ٹوٹ چکے؛ اب ٹوٹے کام بناوے الی مشکلیں آسان کر دے الہی! فضل کے سامان کر دے ان کے آتے ہی میرے غنچۂ دل کا کھلنا اس خزاں کا میری صد فصل بہاراں ہونا اپنی رحمت سے الہی! جلد دے نعم البدل یہ دل فرقت ذرہ بے چین پھر پا جائیں کل ۳۷۵ اسی کوشش میں ساری عمر گذری ۳۷۲ ۳۷۳ ۳۷۴ الله پھلے پھولے گلستان محمد الہی ! ہمیں رنج و غم سے چھڑا دے خوشی کی خبر ہم کو جلدی سنا دے ۳۷۷ اندھیرا مئے روشنی پھیل جائے اب اک اور عالم کو پھیرا دکھا دے ۳۷۸ ۳۷۹ ۳۸۰ یار بلوائے اب تو بیٹھے ہیں گوش بر آواز چاہے جس وقت آنکھیں تو کھول، سر تو اٹھا؟ دیکھ تو ادھر قصر مراد کے کلس آتے ہیں وہ نظر سیر آگئی تھی چند روزه ۳۸۱ اطاعت کروں؛ دُور ہوں یا قریب ۳۸۲ ۳۸۳ اسلام پر یہ پر اسے بھائی نہیں دنیائے زشت کہیں سب مجھے بادب با نصیب سخت مصیبت کا وقت ہے کچھ اس میں شک نہیں؛ کہ قیامت کا وقت ہے آفت میں گھرا ہے؛ یہ آفت کا وقت ہے مسلم قدم بڑھا! کہ یہ ہمت کا وقت ہے