بیت بازی — Page 20
20 20 ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۲ ایک پر ایک رگرا پڑتا ہے اللہ رے شوق خوف ہے؛ اوروں سے پیچھے نہ میں رہ جاؤں کہیں اے محبت! کیا اثر تو نے نمایاں کر دیا زخم و مرہم کو رہ جاناں میں یکساں کر دیا آگرا جو آگ میں تیری؛ وہ بھن کر رہ گیا جانتے تھے جو نہ رونا؛ ان کو گریاں کر دیا رو ۳۴۳ اک نور خاص میرے دل و جاں کو بخش دو میرے گناہ ظاہر و پنہاں کو بخش الہی! فضل سے دل شاد کر دے پنائے رنج و غم برباد کر دے ۳۴۴ ۳۴۵ ۳۴۶ ۳۴۷ ۳۴۸ ۳۴۹ ۳۵۰ ۳۵۱ ۳۵۲ ۳۵۳ 후후후 ۳۵۴ ۳۵۶ ۳۵۷ الہی کسی دلہن کی پالکی ہے ! ملائک جس کو آئے ہیں اُٹھانے اقبال تاج سر ہو تیرے سر کے تاج کا اس کو خدا و خلق کی خدمت نصیب ہو ایسی تمہارے گھر کے چراغوں کی ہو ضیاء عالم کو جن سے نور ہدایت نصیب ہو اسی منور ہو سینہ تمہارا کرے دل میں گھر نور قرآن طیب الہی! یہی نور چھا جائے اتنا کہ بن جائے شمع شبستان طيب چلو میری پیاری! یہی راہ ہے سب میں آسان طیب پر اسی راسته مجیب الدعاء سميع بصیر قادر و مقتدر ورور روف رحیم اپنے نام کریم کا صدقہ J و اے غفور! اے میرے عفو اپنے فضل عظیم کا و خبیر و صدقہ واری اے محسن و محبوب خدا! اے میرے پیارے اے قوتِ جاں! اے دل محزوں کے سہارے ۳۵۵ اے شاہ جہاں! نور زماں خالق و باری ہر نعمت کونین تیرے نام اک روٹھنے والی کی امانت تھی میرے پاس اب لخت دل خستہ جگر تیرے حوالے اس گھر میں پلی بڑھ کے جواں ہو کے چلی میں پیارے! تیرے محبوب کا گھر تیرے حوالے آسماں شاہد ہے؛ ہاں ! اب تک زمیں کو یاد ہے کانپ جانا نعرہ تکبیر سے کفار کا ابر رحمت ہو کے جب سارے جہاں پر چھا چکے کہہ دیا شیطاں نے ہنس کر زور تھا تلوار کا اسی زباں سے اسی وقت گند بگ بگ کر خدا کا نام نہ لو ظالمو! خدا کیلئے ۳۶۱ اتنا نہ کھینچ کہ رشتہ اُمید ٹوٹ جائے بگڑے نہ جس سے بات؛ وہی بات چاہیئے ۳۵۸ ۳۵۹ ۳۶۰