بیت بازی

by Other Authors

Page 331 of 871

بیت بازی — Page 331

331 یونہی پڑے نہ باتیں بناتے؟ تو خوب تھا کچھ کام کر کے ہم بھی دکھاتے؛ تو خوب تھا یہی جی ہے کہ پہنچے یار کے پاس ہے مریغ دل تڑپتا آشیاں میں يا مسيح الخلق عدوانا؛ پکار اٹھیں گے لوگ خود ہی منوائے گا سب سے؛ یار منوانے کے دن یارب! تو رحم کر کے ہم کو سکھا دے قرآں ہر دکھ کی یہ دوا ہو؟ ہر درد کا ہو چارہ یوں نہیں ہیں جھوٹی باتوں پر یہ اترانے کے دن ہوش کر غافل! کہ یہ دن تو ہیں گھبرانے کے دن کے؛ زخم تمہارے سینوں بن جائینگے رشک چمن اس دن قادر مطلق ہے یار مرا؛ یار کو آنے رو ۲۶۰ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۳ ۲۶۴ ۲۶۵ ۲۶۶ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۷۰ تم میرے یہ کیسا عدل ہے؛ کہ کریں اور ہم بھریں اغیار کا بھی قضیہ چکانا پڑے ہمیں یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا یاں نہ چلاؤں؟ تو چلاؤں کہاں یہ وقت؛ وقت حضرت عیسی ہے دوستو ! جو نائب خدا ہیں؛ جو ہیں مہدی زماں ۲۶۹ کی؛ یاد جس دل میں ہو اس کی ؛ وہ پریشان نہ ہو ذکر جس گھر میں ہو اس کا؛ کبھی ویران نہ ہو یہ جو معشوق لئے پھرتی ہے اندھی دنیا میرے محبوب سی ہی ان میں کہیں آن نہ ہو خاکسار نابکار، دلبرا؛ وہی تو ہے کہ جس کو آپ کہتے تھے؛ ہے باوفا وہی تو ہے یہ دریا؛ جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے تو قدرت سے پیدا کئے ہیں یارو! مسیح وقت؛ کہ تھی جن کی انتظار رہ تکتے تکتے جن کی؛ کروڑوں ہی مرگئے مناظر دیکھتا جا کربلا کے ۲۷۱ ۲۷۲ ۲۷۳ ۲۷۴ یزیدگی شان کے مالک! ادھر آ