بیت بازی — Page 321
321 ۵۶ ۵۷ یہ نہیں اک اتفاقی امر تا ہوتا علاج ہے خدا کے حکم سے؛ یہ سب تباہی اور تبار یہ عجب آنکھیں ہیں؛ سورج بھی نظر آتا نہیں کچھ نہیں چھوڑا حسد نے ؛ عقل اور سوچ اور بیچار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا یہ شمس الدیں نہاں ہو جائیگا اب زیر غار ۵۹ یا تو وہ عالی مکاں تھے؛ زینت و زیپ جلوس یا ہوئے اک ڈھیر اینٹوں کے پُر از گردوغبار خدا کی خبر لاتے ہیں ۵۸ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ ۷۰ 21 ۷۲ سچ ھے؛ کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے؛ ہو، میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا یہی آئینہ خالق نما ہے یہی اک جوہر سیف دعا ہے یہی اک فیر شان اولیاء ہے بجز تقوی؛ زیادت ان میں کیا ہے پانچوں جو کہ نسل سیّدہ ہیں یہی ہیں پنج تن؛ جن پر بنا ہے یہ گماں مت کر؛ کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے؛ واپس ملے گا، تجھ کو یہ سارا اُدھار یعنی وہ وقت؛ امن کا ہوگا، نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا تہ نانک کو خلعت ملا سرفراز خدا جو تھا؛ درد کا چارہ ساز تو ہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے انھیں کیا کیا دکھایا یہ چھوٹی عمر پر جب آزمایا کلام حق کو ہے فرفر سنایا یا تو اک عالم تھا قرباں اُس پر یا آئے یہ دن ایک عبدالعبد بھی اس دیں کے جھٹلانے کو ہے یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ اے گرنے والو! دوڑو؛ دیں کا عصا یہی ہے یہ ہے خیال ان کا؛ پربت بنایا تنکا پر کیا کہیں؟ پر کیا کہیں؛ جب ان کا فہم و ذکا یہی ہے یہ حکم وید کے ہیں؛ جن کا ہے یہ نمونہ یه ویدوں سے آریوں کو حاصل ہوا یہی ہے ۷۴ یوسف تو سن چکے ہو اک چاہ میں رگرا تھا یہ چاہ سے نکالے؛ جس کی صدا یہی ہے ایسی بات منہ سے مت نکالو خطا کرتے ہو؟ ہوش اپنے سنبھالو یہ کیا عادت ہے؛ کیوں کچی گواہی کو چھپاتا ہے تیری اک روز اے گستاخ! شامت آنیوالی ہے یا یہ کہ اب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی نیت بدل گئی ہے؛ وہ شفقت نہیں رہی ۷۳ ۷۵ ۷۶ LL