بیت بازی

by Other Authors

Page 320 of 871

بیت بازی — Page 320

320 ۳۴ یہی ہے کہ نائب ہے دیدار کا یہی ایک چشمہ ہے؛ اسرار کا ۳۰ یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں وہ نہیں جاگتے؛ سوبار جگایا ہم نے یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۳ یہی فکر کھاتا؟ اسے صبح و شام لکھا تھا اس میں؛ بخت جلی : تھا کوئی ہمراز ؛ کہ اللہ نہ ہم کلام ہے اک اور محمد نبی صدق و صفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا یہ کرم مجھ پر ہے کیوں؟ کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبار کر دگار ۴۲ یا کسی مخفی گنہ سے شامت اعمال ہے جس سے عقلیں ہوگئیں بریکار؛ اور اک مُردہ وار یہ فتوحات نمایاں؛ یہ تواتر سے نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے؛ کیا یہ مکاروں کا کار یہ جو طاعوں ملک میں ہے؛ اس کو کچھ نسبت نہیں اس بلا سے؛ وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار یہ خوشی کی بات ہے؛ سب کام اس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں؛ اور ہے آمرزگار تو رہنے کی جا نہیں پیارو! کوئی اس میں رہا نہیں پیارو! م م ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ نہ تہ نہ راستاں انبیاء و نصیحت کی باتیں؛ حقیقت کی جاں تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے اس بھگت کا گیا اک نشاں ره یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعویٰ پہ مُہرالہ ہے اگر انساں کا ہوتا کاروبار؛ اے ناقصاں! ایسے کاذب کے لئے؛ کافی تھا وہ پروردگار یہ کہاں سے سُن لیا تم نے؛ کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت؛ گو کرو عصیاں ہزار یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو! ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذلت کی مار عقیده برخلاف گفته دادار ہے پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار یہ وہ گل ہے؛ جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے؛ کہ قُرباں اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح؛ جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے؛ جس سے دیکھ لیں رُوئے نگار