بیت بازی

by Other Authors

Page 317 of 871

بیت بازی — Page 317

317 ۴۳۲ ۴۳۳ ۴۳۴ ۴۳۵ ۴۳۶ ہے ہجر میں زیست مجھے موت نظر آتی ہے کوئی ایسا بھی ہے عاشق ؛ جو جیا کرتا ہر چیز اس جہاں کی ڈھلتا ہوا ہے سایہ روز شباب کب تک؛ لطف بہار کب تک ہمارے ہم اُن کی تلخ گفتاری پہ ہرگز کچھ نہ بولیں گے جو بگڑے گا، تو اُن کا مُنہ ؛ ہمارا حرج کیا ہوگا ہر اک جاہل یہ باتیں سُن کے بھر جائے گا غحصہ سے رے قتل پر آمادہ ہر چھوٹا بڑا ہوگا ہماری سنگ باری کیلئے پتھر پہنیں گے سب کمر میں ہرگس و ناکس کے اک خنجر بندھا ہوگا ۴۳۷ ہمارے واسطے دنیا بنے گی ایک ویرانہ سوا اُس یار جانی کے نہ کوئی دوسرا ہوگا ؛ ہمیں وہ ہر طرف سے ڈھانپ لے گا اپنی رحمت سے جو آنکھوں میں بسا ہو گا؛ تو دل میں وہ چھپا ہوگا ہمارا مجرم بس یہ ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ جب ہوگا؛ اسی اُمت سے پیدا رہنما ہوگا ہمارے سید ومولاً نہیں محتاج غیروں کے قیامت تک ، بس اب دورہ اُنہی کے فیض کا ہوگا ہیں مجھ میں لاکھوں ہی عیب؛ جو بات کچی ہے کہہ رہا ہوں؛ ۴۳۸ ۴۳۹ ۴۴۰ ام م ۴۴۲ ۴۴۳ ۴۴۴ ۴۴۵ ۴۴۶ ۴۴۷ پھر بھی نگاهِ دلبر چڑھ گیا ہوں نه کچھ خفا ہے، کچھ ریا ہے ہم سفر سنبھلے ہوئے آنا؟ کہ رستہ ہے خراب پر قدم ڈھیلا نہ ہو؛ میں تیز رفتاروں میں ہوں ہے ہو جسر صراط پر ترا پاؤں فضل تیرا یارب! یا کوئی ابتلا ہو وا دیده و گوش باز ہو جا راضی ہیں ہم اسی میں؛ جس میں تری رضا ہو ہیں رو رو کے آنکھیں بھی جاتی رہیں مری جان! آب تو ہنسا دے ہمیں ہم اپنے دل کا خُون اُنھیں پیش کرتے ہیں گل رُو کے واسطے مئے گل فام لائے ہیں ہمت نہ ہار؛ اس کے کرم پر نگاہ رکھ مایوسیوں کو چھوڑ ؛ وہ رب غفور ہے