بیت بازی — Page 316
316 ۴۱۰ 33 ۴۱۲ ۴۱۳ ۴۱۴ ۴۱۵ ۴۱۶ ۴۱۷ ۴۱۸ ۴۱۹ ۴۲۰ ۴۲۱ ۴۲۲ ۴۲۴ ہے امن کا داروغہ بنایا جنھیں تو نے خود کر رہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے ہم اُمیدوں سے پر ہیں؟ تم مایوس رونی صورت ہو تم ؛ ہنسوڑ ہیں ہم لذت سماع بھی لطف نگاہ بھی کیوں جا رہے ہو صُحبت جانانہ چھوڑ کر ہے ہے گنج عرش ہاتھ میں؛ قرآن طاق مینا کے ہو رہے ہیں؛ وہ میخانہ چھوڑ کر ہے مدت سے شیطان کے ہاتھ آئی حکومت جہاں کی خُدا کی خُدائی ہر اک چیز اُلٹی نظر آرہی ہے بھلائی بُرائی بُرائی بھلائی پہ مسلم کی قسمت میں ہے جگ ہنسائی ہیں مدح و ثنا حصہ گبر پر و ترسا ہے تاروں کی دُنیا؛ بہت دُور ہم ہوا کیا؟ کہ دشمن ابلیس ہے ނ ہم ان سے ہیں؛ اور وہ ہیں مہجور ہم سے باتیں کریں گے سرِ طور ہم سے وہ ہم ان سے نگاہیں لڑائیں گے پیہم ہے قیادت سے بھی پُر لطف اطاعت مجھ کو ہوں تو میں پیر؛ مگر شکر ہے بے پیر نہیں ہے قدم دنیا کا ہردم آگے آگے جا رہا تیز تر گردش میں ہیں پہلے سے آب ارض و سما ہیں لگے رہتے دُعاؤں میں وہ دن بھی ، رات بھی ہیں زمین و آسماں میں پھر رہے وہ رہ نورد ؛ ہر گام پر فرشتوں کا لشکر ہو ساتھ ساتھ ہر ملک میں تمھاری حفاظت خُدا کرے ۴۲۳ ہفت اقلیم کو جو راکھ کئے دیتی تھی تو نے وہ آگ بجھائی تھی؛ ہے تیرا احساں پیارو! خُدا نے نوازا ہے ہر دوسرا میں ہے قرآن میں جو سُرور اور لذت ہے مثنوی میں؛ نہ بانگِ درا میں ہیں تیرے بندے مگر ہاتھوں کی طاقت سلب ہے کفر کا خیمہ لگا ہے؟ قریہ قریہ، گھر بہ گھر ہوئی کے آدم و حوا کی منزل ؛ انس وقربت سے مگر ابلیس اندھا تھا؟ کہ چھٹا حق کی لعنت۔ہے کرنا زیر شیطاں کا، بہت مشکل؛ مگر سمجھو کہ حل ہوتی ہے یہ مشکل ؛ دُعاؤں کی اجابت سے ہزار سال مسلماں نے تجھ کو پالا ہے یہ غیظ تجھ میں اُبھر آیا ہے کہاں سے آج ہمارے نیک ارادوں پر اس قدر شبہات خُدا ضرور ہی پیٹے گا بد گماں سے آج ہمیں وہ دامنِ رحمت سے ڈھانپ لیں گے ضرور بھریں گے گھر کو ہمارے وہ ارمغاں سے آج ۴۲۵ 중 ۴۲۶ ۴۲۷ ۴۲۸ ۴۲۹ ۴۳۰ ۴۳۱ ہے ؟ سے