بیت بازی

by Other Authors

Page 19 of 871

بیت بازی — Page 19

19 ۳۲۰ ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۳ ۳۲۴ اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامن اس غرض سے؛ کہ زندہ نہ ہوویں ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں؟ تو جاں ہی سہی بلا سے کچھ تو نپٹ جائے فیصلہ دل کا از بس؛ کہ یہ مغفرت کی بتلاتی ۳۲۵ اس سے ہے راہ تاریخ بھی یا غفور نکلی وہ واہ! اے فدا ہو تیری رہ میں؛ میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا؛ کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا شیطاں کا مکر و وسوسہ؛ بے کار ہو گیا ۳۲۶ اے میرے یار یگانہ، اے میری جاں کی پناہ کر وہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن ۳۷ اُس نے ہر ایک کو وہی رستہ دیکھا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے؛ سب کو مٹا دیا ۳۲۸ ودرٌ عَدَن افضل ہمارے حکم کو تم جانتی رہیں دنیا و دیں میں تم کو فضیلت نصیب ہو ٣٢٩ أسوة پاک خُلق منتہائے کمال انسانی ربانی صلّ على نَبِيِّنَا صَلّ على مُحَمَّد نه ۳۳۰ آدمی میں آدمیت تھی اس سے بڑھ کر ہزار شان میں ہے ۳۳۱ اس کو انساں بنا دیا تو نے جس نبی کا مثیل ہے احمد ۳۳۲ السلام! اے نبی والا شان والصلوة! موسس ایمان منیر تو آیا ساری دنیا میں نور پھیلایا ۳۳۳ اے ۳۳۴ ۳۳۵ ۳۳۶ ۳۳۷ ۳۳۸ ۳۳۹ سراج السلام! اے ہادی راه بدی جانِ جہاں والصلوۃ! اے خیر مطلق؛ اے شہہ کون ومکاں آپ چل کر تو نے دکھلا دی رو وصل حبیب تو نے بتلایا کہ یوں ملتا ہے یارِ بے نشاں ایک ہی زینہ ہے اب بام مرادِ وصل کا بے ملے تیرے ملے ممکن نہیں وہ دل ستاں الا دلا! که نه شنوی صدائے احمد را که تو هنوز نه دیدی ضیائے احمد را اسباق محبت کے زمانے کو پڑھائے خود ہوگئے وہ خل ثمر بار محبت اے شاہ زماں خالق انوار محبت اے جان جہاں رونق گلزار محبت