بیت بازی

by Other Authors

Page 315 of 871

بیت بازی — Page 315

315 ۳۹۰ ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۳ ہو چکی مشق ستم اپنوں کے سینوں پر بہت آب ہو دشمن کی طرف رُخ خنجر و شمشیر کا ہو رہا ہے کیا جہاں میں ؛ کھول کر آنکھیں تو دیکھ وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا ہو رُوحِ عشق تیری میرے دل میں جاگزیں تصویر میری آنکھ میں آکر بسے تری ہوئے نہ انجمن آرا اگر؛ تو کیا کرتے کہ ان کے حُسن کا کوئی بھی تو جواب نہ تھا ہنستے ہی ہنستے، رُوٹھ گئے تھے وہ ایک دن ہم نے بھی رُوٹھ رُوٹھ کے؛ اُن کو منا لیا ۳۹۵ ہونے دی اُن کی بات نہ ظاہر کسی پہ بھی جو زخم بھی لگا؛ اُسے دل میں چھپا لیا ہمیں بھی تجھ سے ہے نسبت؛ او رند بادہ نوش نگاہ یار کو ہم بھی شراب کہتے ہیں ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق ہزاروں بھاتی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو ادائیں ہے چیز تو چھوٹی سی مگر کام کی ہے چیز دل کو بھی میرے اپنی اداؤں سے لبھا ئیں ہر ظلم بھی سہہ ہر بات بھی سُن؛ غدار نه بن، بزدل بھی نہ بن ؛ ۳۹۶ ۳۹۷ ۳۹۸ ۳۹۹ کردار نہیں دین کا دامن تھامے ره مومن کا ہوں صدر کہ شاہ کوئی بھی ہوں؟ سر کار مری ہے مدینہ میں؛ میں ان سے دب کر کیوں بیٹھوں لوگ میری سر کار نہیں ہو لامکان؛ تو قصر رخام سے کیا کام جو ہر جگہ ہو؛ اُسے اک مقام سے کیا کام ہر ایک حال میں ہے لب پہ میرے نامِ خُدا خُدا پرست ہوں میں ؛ رام رام سے کیا کام ہے میرے دل میں محمد ، تو اُس کے دِل میں میں مجھے پیامبروں کے پیام سے کیا کام ہماری جان تو ہاتھوں میں اُس کے ہے لکھو جدھر بھی، جب بھی؛ وہ اس کو پھرائے پھر تے ہیں ہر مصیبت میں دیا ساتھ تمہارا؟ لیکن تم کو کچھ ایسی شکایت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ہوش کر دشمن ناداں! یہ تو کیا کرتا ہے ساتھ ہے جس کے خُدا؛ اُس پہ جفا کرتا ہے ہے ہر گھڑی کرامت و ہر لمحہ معجزہ یہ میری زندگی ہے؛ کہ حق کا ظہور ہے زندگی میں دخل؛ نہ کچھ موت پر ہے زور چیز کیا ہے؟ ایک سر پرغرور زور آزما احمدی کی رُوح رُوحِ ایمانی تو دیکھ ہے اکیلا کفر سے ہے ہے ۴۰۰ ۴۰۱ ۴۰۲ ۴۰۳ ۴۰۴ ۴۰۵ ۴۰۶ ۴۰۷ ۴۰۸ ۴۰۹