بیت بازی — Page 314
314 ۳۷۱ ہم کو تیری رفاقت حاصل رہے ہمیشہ ایسا نہ ہو؛ کہ دھوکہ شیطان مجھ کو دے دے ہو جائیں جس سے ڈھیلی؟ سب فلسفہ کی چولیں میرے حکیم! ایسا بُرہان مجھ کو دے دے ۳۷۲ ہو گیا گل دیا میرے گھر کا ہر امن اور چین کا حصار گیا طرف سے رہا مجھے گھاٹا دل گیا؛ دل کا اعتبار گیا ۳۷۴ ہے حاکم تمھیں گھر جانے کا ؛ اور ہم کو ابھی کچھ ٹھہرنے کا تم ٹھنڈے ٹھنڈے گھر جاؤ! ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں کا؛ ۳۷۵ ۳۷۹ ہے سب جہاں سے جنگ سہیڑی تیرے لیے اب یہ نہ ہو؛ کہ تو ہمیں دل سے اُتار دے ۳۷۶ ہوں جہاں گرد ہم میں پھر پیدا سند باد اور پھر پھر جہازی بخش ۳۷۷ ہر وقت مئے عشق یہاں سے رہے بکتی ویرانہ دل کو میرے؛ میخانہ بنا دے ۳۷۸ ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے ہے ساعت سعد آئی؛ اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کر دوں؟ انجام خُدا جانے ۳۸۰ ہجر میں وصل کا مزا پا لیا میں نے ہمنشیں! کب پہ تو تھا نہیں؛ مگر آنکھ میں اُن کی پیار تھا ہم نشیں! تجھ کو ہے اک پُر امن منزل کی تلاش مجھ کو اک آتش فشاں پر ولولہ دل کی تلاش ہوا جو مکہ میں ٹور پیدا؟ اُسی کو مکہ نے دُور پھینکا کبھی ملی ہے نبی کو عزت ؛ بتا تو اے معترض وطن میں ہیں رنگ رلیاں منا رہے لوگ؛ لطف اُن کو کہاں میسر ؛ ۳۸۱ ۳۸۲ وہ ۳۸۳ ۳۸۴ ۳۸۵ ساغر ئے چھلک رہے ہیں میلا جو مجھ کو تیری لگن میں ہزاروں کلیاں چنک رہی ہیں؛ نسیم رحمت کی چل رہی ہے؛ ہزاروں غنچے مہک رہے ہے ہیں چمن چمن میں، چمن چمن میں دعوت نظر تری طرز حجاب میں ڈھونڈا کرے کوئی تجھے؛ پایا کرے کوئی ۳۸۶ ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے ۳۸۷ ۳۸۸ ۳۸۹ ہیں ناخُدائے قوم بنے صاحبانِ ہر جلوه عقل میری نگاہ تو بس جا کے تجھ پہ پڑتی ہے ہے اس خیال نے مجھے دیوانہ کر دیا جدید نے تختہ الٹ دیا خود مجھ کو اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا ہو چکا ہے ختم اب چکر تیری تقدیر کا سونے والے اُٹھ ! کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا