بیت بازی

by Other Authors

Page 18 of 871

بیت بازی — Page 18

18 ابن اے مریم مر گیا؛ حق کی قسم عزیزو! سوچ کر دیکھو ذرا موت داخل حجت ہوا وہ محترم بچتا کوئی دیکھا بھلا ! اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب! ۲۹۸ ۲۹۹ ۳۰۰ ۳۰۴ اسے دے چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار ۳۰۲ اک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے اے رب الوریٰ اور دینوں کو جو دیکھا؟ تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے؟ اگر حق کو چھپایا ہم نے آزمائش کیلئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے ۳۰۷ آدمی زاد تو کیا چیز؛ فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں؛ جو گایا ہم نے ۳۰۵ ۳۰۶ ۳۰۸ اسی ۳۰۹ اسی پر وہ آیات ہیں بینات که جن وہ ޏ سب راز حق پا گیا اسی ۳۱۰ اسی نے بلا ނ ادھر ۳۱۱ ۳۱۲ ۳۱۳ ۳۱۴ آئیں دیکھیں بچایا تصویر ہے ہر اک ނ ملے جاودانی حیات وہ حق کی طرف آگیا بد گہر چھڑایا اسے یہی پاک چولہ جہانگیر ہے رکھتے تھے اہل صفا تذلل دعا چوم کر کرتے رو رو اسی کا تو تھا معجزانہ اثر جب پیش آتی بکا سے؛ تو ہو جاتا تھا فضل قادر خدا کہ نانک بیچا جس سے وقت خطر ۳۱۵ ابھی عمر سے تھوڑے گذرے تھے سال کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال ۳۱۶ ۳۱۷ ۳۱۸ اسی جستجو میں وہ رہتا مدام کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام اسے وید کی رہ نہ آئی پسند کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند اے مرے پیارے! مجھے اس سیل غم سے کر رہا ورنہ ہو جائیگی جاں اس درد سے تجھ پر نثار ۳۱۹ اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظن بد سے ڈر نہیں ہے