بیت بازی — Page 17
17 ۲۷۷ ۲۸۱ اس نشاں کے بعد ایماں قابل عزت نہیں ایسا جامہ ہے کہ نو پوشوں کا جیسے ہو اتار اس میں کیا خوبی ؛ کہ پڑ کر آگ میں پھر صاف ہو خوش نصیبی ہو؛ اگر اب سے کرو دل کی سنوار ۲۷۸ اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں کام وہ دکھلائے گا؛ جیسے ہتھوڑے سے لوہار ۲۷۹ اس گھڑی شیطاں بھی ہوگا سجدہ کرنے کو کھڑا دل میں یہ رکھ کر ؛ کہ حکم سجدہ ہو پھر ایک بار ۲۸۰ اک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت اے قدیر! جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ ہے یہی غم میرے دل میں ؛ جس سے ہوں میں دلفگار ۲۸۲ ارے لوگو! کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے ۲۸۳ اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اسقدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے ۲۸۴ اس خرابہ میں کیوں لگاؤ دل ہاتھ سے اپنے کیوں جلاؤ دل قدر کیوں کین و استکبار کیوں خدا یاد سے گیا یک بار ہے اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جاں اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی؛ یوں ہی امتحان سہی ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۸۹ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ اس ہے اس بہارِحسن کا دل میں ہمارے جوش مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سوسوحجاب ورنہ تھا قبلہ تیرا رخ کافر و دیندار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے؛ جیسے دل گھٹے بیمار کا ان کے طریق و دھرم میں گو لاکھ ہو فساد کیسا ہی ہو عیاں؛ کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد ۲۹۴ اے غافلان وفا نه کـنـد ایـن ســـرائـے خـام دنیائے دوں نـمـانـد و نـمـانـد بـه گـس مدام ۲۹۳ ۲۹۵ ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا ان کا دل مبتلا ۲۹۶ آریو! اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آگیا ہے ۲۹۷ ایسے مذہب ہے ویدوں کا ویدوں کا کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا