بیت بازی

by Other Authors

Page 305 of 871

بیت بازی — Page 305

305 ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ ۱۸۶ ۱۸۸ ہو تمہی کل کے قافلہ سالار آج بھی ہو تمہی امام؛ چلو ہر روز نئے فکر ہیں؟ ہر شب ہیں نئے غم یارب! یہ مرا دل ہے؛ کہ مہمان سرا ہے ہیں کس کے بدن؛ دیس میں پابند سلاسل پردیس میں اک رُوح؛ گرفتار بلا ہے ہزار خاک سے آدم اُٹھے؛ مگر بخدا شبیہہ وہ! جو تری خاک پا سے اُٹھی ہے ہیں سب نام خدا کے سُندر؛ وا ہے گروہ اللہ اکبر سب فانی اک وہی ہے باقی ؛ آج بھی ہے جو کل ایشر تھا ہے عوام کے گناہوں کا بھی بوجھ اس پہ بھاری یہ خبر کسی طریقے سے؛ حمار تک تو پہنچے ہو موت اُس کی رضا پر یہی کرامت ہے خوشی سے اُس کے کہے میں جو کھا ئیں سم اعجاز ہے حسن میں خوغم کے شراروں کے سہارے اک چاند معلق ہے؛ ستاروں کے سہارے ہے یہ سینہ؛ کہ جواں مرگ اُمنگوں کا مزار اک زیارت گہِ صدقافلہ ہائے غم و حزن ہر ستم گر کو ہو اے کاش! یہ عرفان نصیب ظلم جس پر بھی ہو؛ ہر دین کی رسوائی ہے ہم نہ ہوں گے؛ تو اُجڑ جائے گائے خانہ غم درد کے جام لنڈھا ساقی! کہ ہم باقی ہیں 19 ہمیں کبھی تو تم اپنی نگاہ سے دیکھو تعصبات کی عینک اتار کر دیکھو ہیں آسمان کے تارے گواہ؛ سورج چاند پڑے ہیں ماند؛ ذرا کچھ بچار کر دیکھو ہوتی رہی رُسوا کہیں دختر، کہیں مادر دیکھے ہیں تیری آنکھ نے وہ ظلم؛ کہ جن پر ہو جائیں گے آنگن تیرے اُجڑے ہوئے آباد اے بوسنیا، بوسنیا، بوسنیا زنده باد ہر ایک شہری ہو آسودہ؛ ہر کوئی ہو نہال کوئی ملول نہ ہو؛ کوئی خستہ حال نہ ہو ہم تو رضائے باری پر ہی جیتے ہیں اس کی رضا پر ہی اک دن مرنا ہوگا ہارٹلے پول میں کل ایک کنول ڈوب گیا ہارٹلے پول کا وہ پھول وہ محبوب گیا ہوش و حواس گم تھے؛ کسے تاب دید تھی جب جگمگا رہا تھا برق تجلی سے طورشب ۱۸۹ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ ۱۹۶ ۱۹۷ ۱۹۸ ١٩٩ کلام محمود ہیں اسی بحر کے گہر ؛ ہے اُسی حبیب کا یہ نور ظالمو! بات ہے وہی؛ لیک زباں اور ہے ہائے ! اس غفلت میں ہم یاروں سے پیچھے رہ گئے یہ بھی کیسا پیار ہے؛ پیاروں سے پیچھے رہ گئے