بیت بازی

by Other Authors

Page 294 of 871

بیت بازی — Page 294

294 ۲۶۶ ۲۶۷ ۲۶۸ وہ وہ آئے؛ اور عشق کا اظہار کر دیا پڑھتے رہے اندھیرے میں چھپ کر نماز ہم وعظ قرآں پر کبھی تو کان دھر کبھی تو کان دھر علم کی اس میں فراوانی تو دیکھ دل کو جوڑتا ہے؛ تو ہیں دل فگار ہم وہ جان بخشتا ہے؟ تو ہیں جاں نثار ہم ۲۶۹ ورثہ نبوی کے ڈر سے مولوی کا احترام اُلفت پدری کی خاطر ؛ سیدوں کے ہیں غلام وہ بھی ہیں کچھ ؛ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں دُنیوی آلائشوں سے پاک ہیں؛ اور دُور ہیں ا وہ ہر اک صیاد کے تیروں کا بنتے ہیں ہدف جس کا بس چلتا ہے؛ پہنچاتا ہے وہ اُن کو گزند وہ بھی اوجھل ہے مری آنکھوں سے جو ہے سامنے ہے ترے علیم ازل میں؛ جو ہے غائب مُستر وہ چاہتا ہے؛ کہ ظاہر کرے زمانہ پر ہمارے دل کے ارادے اس امتحاں سے آج ۲۷۱ ۲۷۲ ۲۷۳ ۲۷۴ ۲۷۵ ۲۷۶ ۲۷۷ ۲۷۸ ۲۷۹ ۲۸۰ ۲۸۱ k وہ خود دیتے ہیں جب مجھ کو؛ بھلا انکار ممکن ہے میں جب کیوں فاقے رہوں ؛ شاہ کے گھر میں ہوا مہماں وہ کافر اور ملحد ہم کو بتلائیں گے منبر پر ہمارے زندقہ کا فتویٰ؛ سب میں برملا ہوگا وہ جن کے پیار و الفت کی قسم کھاتے تھے ہم اب تک ہر اک اُن میں سے کل پیاسا ہمارے خُون کا ہوگا وہ جس کی محبت و مجلس میں دن اپنے گزرتے تھے ہمارے ساتھ اس کا گل سُلوک ناروا ہوگا خُدا کے بندوں کی غفلتوں سے؛ وہ دُنیائے معرفت؛ همس جو چمک رہا تھا کبھی فلک وہ دلدلوں میں پھنسا ہوا وہ کثرت پہ اپنی ہیں رکھتے گھمنڈ تو اپنے کرم ہے سے بڑھا دے ہمیں وہ علم دے؛ جو رکتابوں سے بے نیاز کرے وہ عقل دے؛ کہ دو عالم میں سرفراز کرے وہ بھر دے جوش بخوں میرے سر میں اے مولیٰ ! جو آگے بڑھ کے در وصل پھر سے باز کرے ۲۸۲ وقف ہے جاں بہر مال و سیم و زر مال دینے والے سے ہے بے خبر ۲۸۳ وقف کرنا جاں کا ہے گسپ گمال جو ہو صادق وقف میں؛ ہے بے مثال وہ قصیدہ میں کروں؟ وصف مسیحا میں رقم فخر سمجھیں، جسے لکھنا بھی؛ مرے دست وقلم ۲۸۴