بیت بازی — Page 293
293 ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۲ ۲۵۳ ۲۵۴ وہ وہ آنکھیں؛ جو ہوئیں اُلفت میں بے نور بہنیں وہ اُس کی اُلفت کے نگینے وہی ہیں غوطہ خور بحر ہستی ڈار سے ہیں بھرے جن کے سفینے وہ اُس کی تیکھی پچون میں جنت کا نظارہ دیکھتا ہے اس جور و جفا کے واسطے؛ تم پابندِ وفا کو رہنے دو ۲۲۷ وہ آئے سامنے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا یہ انقلاب؛ کوئی گم تو انقلاب نہ تھا وفور حسن سے آنکھیں جہاں کی خیرہ تھیں نظر نہ آتے تھے، منہ پر کوئی نقاب نہ تھا وہ عمر جس میں کہ پاتی ہے عقل نور و چلا تم اس کو شیب کہو؛ ہم کباب کہتے ہیں وہ سلسبیل کا چشمہ؛ کہ جس سے ہو سیراب حسد سے اس کو غدُو کیوں سراب کہتے ہیں ۲۵۱ وہی خاک؛ جس سے بنا میرا پتلا میں اُس خاک کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ خاک سے پیدا کرتا ہے ؛ وہ مُردے زندہ کرتا ہے جو اُس کی راہ میں مرتا ہے؛ وہ زندہ ہے، مُردار نہیں وہ جو کچھ مجھ سے کہتا ہے پھر میں جو اُس سے کہتا ہوں اک راز محبت ہے؛ جس کا اعلان نہیں، اظہار نہیں کریں بے وفائی! اے تو بہ آپ کے ہی خیال ہیں ایسے وہ منہ چھپائے ہوئے مجھ سے ہم کلام ہوئے وصال گو نہ ہوا؛ خیر کچھ ہوا تو سہی وہ آپ خود خود چلے آئیں گے تیری مجلس میں خودی کے نقش ذرا دل سے تو مٹا تو سہی ہے چال، وہی راہ ہے؛ وہی ہے روش ستم وہی ہیں، تو پھر شرمسار کیسے ہیں وہ لالہ رخ ہی یہاں پر نظر نہیں آتا تو اس جہان کے یہ لالہ زار کیسے ہیں وہ حسرتیں ہیں؛ جو پوری نہ ہو سکیں، افسوس! بتاؤں کیا؟ میرے دل میں مزار کیسے ہیں ۲۲۰ وہ جس نے ہم کو کیا برسرِ جہاں رُسوا اُسی کی یاد کو دل میں چھپائے پھرتے ہیں وہ پھول ہونٹوں سے اُن کے جھڑے تھے جو اک بار انہی کو سینہ سے اپنے لگائے پھرتے ہیں وہ دیکھ لے، تو ہر اک ذرہ پھول بن جائے وہ موڑے منہ ؟ تو سب اپنے پرائے پھرتے ہیں ؛ وہ کہاں، اور ہم کہاں؟ پر رحم آڑے آگیا رہ گئی عزت ہمارے نالہ دلگیر کی ۲۶۴ وسوسے غیر نے ڈالے؛ کئے اپنوں نے فساد میری تیری وہ رفاقت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ۲۶۵ وہ زشت رو؛ کہ جس سے چڑیلیں بھی خوف کھائیں اُس کو بھی دیکھئے کہ تمنائے خور ہے ۲۵۵ ۲۵۶ ۲۵۸ ۲۵۹ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۳ وہی